
ملاقات :زین صدیقی
سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خاندان کے ذاتی فوٹوگرافر آغا فیروز نے کہا ہے کہ وہ بھٹو خاندان کے ذاتی فوٹو
گرافر تھے۔ 45سال بھٹو خاندان کے ساتھ رہے ۔بھٹو خاندان کی 15ہزار سے زائد تصاویر ان کے پاس موجود ہیں ۔بھٹو خاندان کا اگر کوئی حقیقی وارث ہے تو وہ یہ تصاویر کو مجھ سے مفت حاصل کرسکتا ہے ۔اگریہ تصاویر انہوں نے نہ لیں تومیں نے اپنے بچوں کی وصیت کی ہے کہ وہ انہیں سمندر برد کردیں ۔
انہوں نے پیپلزپارٹی کے یوم تاسیس کے موقع پر آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں منعقد کی گئی بھٹو خاندان کی تصاویر کی نمائش کے موقع” رنگ نوڈاٹ کام “سے خصوسی بات چیت کی۔

آغا فیروز نے کہا کہ میں اب تک پاکستان بھر میں 80بار ان تصاویر کی نمائش منعقد کرچکا ہوں ،تاکہ ذوالفقار علی بھٹو کے حقیقی وارث کی توجہ اس جانب مبذول کراسکوں ۔20بار پی پی کے وزرائے اعلیٰ سے ملاقات کر چکا ہوں ،پی پی چیئر مین بلاول بھٹو زرداری سے بھی ملاقات کرچکا ہوں ،لیکن کسی نے ابھی تک اس جانب توجہ نہیں دی ۔
ایک سوال پر آغا فیروز کا کہنا تھا کہ یہ تصاویر بھٹو خاندان کیلئے نادر اثاثہ ہیں ۔میں چاہتا ہوں کی بھٹو خاندان کا حقیقی وارث ان تصاویر کو مجھ سے مفت لے اورانہیں شیشم کی لکڑی کے فریم میں محفوظ کرے اوران تصاویر کیلئے کوئی گیلری بنائی جائے تاکہ یہ تصاویر وہاں محفوظ رہیں ۔

آغافیروز کا کہنا تھا کہ یہ تصاویر بھٹو خاندان کیلئے بہت بڑا اثاثہ ہیں ۔بھٹو خاندان کے ذاتی فوٹو گرافر ہو نے کے ناطے یہ تمام تصاویر میں نے خود بنائی ہیں ۔45سال کے دورن پر اچھے پرے دنوں میں میں ان کے ساتھ رہا ہوں ۔
انہوں نے بتا یا کہ میں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دورمیں1973میں ان کے ذاتی فوٹوگرافر کی حیثیت سے خدمات انجام دینا شروع کیں اور45سال تک ان کے بعد بھی خدمات انجام دیتا رہا ۔بھٹوصاحب کے ہر سرکاری اور غیر سرکاری پروگرام میں میں فوٹو گرافی کرتا تھا ۔دنیا کے مختلف ممالک کے سربراہان ،آرمی چیفس سے ملاقاتوں ،سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹواوران کے دونوں ادوارکی تصاویر میں نے بنائیں،بھٹوخاندان کے ایک ایک فرد کی تصویر کشی کی ۔

آغافیروزنے اپنی ہیلی کاپٹر میں بیٹھے ہوئے تصاویر دکھاتے ہوئے بتا یا کہ وہ سرکاری ہیلی کاپٹر میں گھوماکرتے تھے،اس
وقت گویا میں بھٹو خاندان کے گھر کے فر دکی طرح تھا ،مگر آج مجھے کوئی نہیں پوچھتا ۔مجھے نظرانداز کر دیا گیا ہے ۔آغافیروز نے کہا کہ اگر بلاول بھٹو خود کو اس خاندان کا حقیقی وارت کہتے ہیں تو میں ان سے کہا ہوں کہ وہ مجھ سے رابطہ کریں یہ تصاویر میں انہیں مفت دینے کیلئے تیار ہوں ۔
انہوں نے کہا کہ میں بھٹو خاندان کی ان 15ہزار تصاویر کو نہیں سنبھال سکتا ۔ان تصاویر کو رکھنے اورمحفوظ بنانے کیلئے بڑی جگہ درکار ہے جو میرے پاس نہیں ہے ۔
آغا فیروز نے کہا کہ میں بلاول بھٹو سمیت پیپلز پارٹی اور بھٹو کے کسی بھی چاہنے والے سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ مجھ سے یہ تصویر مفت لے سکتا ہے وہ اس سلسلے میں مجھ سے رابطہ کرے ،بصورت دیگر میں نے بچوں کو نصیحت کردی ہے کہ وہ میرے مرنے کے بعد انہیں سمندر برد کردیں ۔




































