
کراچی(ویب ڈیسک ) شاہراہ فیصل کارساز پر واقع ایک پیٹرول پمپ اسٹاف کی جانب سے پورے پیسے لینے کے باوجود کم پیٹرول ڈالنے پر
شہری اور پمپ کے منیجر کے مابین تلخ کلامی ہوگئی۔ دیگر شہری بھی پہنچ گئے اور انہوں نے پیٹرول پمپ کی جانب سے کی جانے والی بے ایمانی پر شدید غصے کا اظہار کیا
۔اس موقع پر پمپ کے منیجر اور سیکورٹی گارڈ کی جانب سے شہریوں کو خوف زدہ کرنے کیلئے ہوائی فائرنگ بھی کی گئی جس پر شہری مزید مشتعل ہوگئے۔مذکورہ واقعے کی وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد آئی جی سندھ نے نوٹس لیتے ہوئے مذکورہ پمپ کے منیجر اور سیکیورٹی گارڈ کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کردیا۔کراچی کے شہریوں کا کہنا ہے کہ کرپٹ افسران کی سرپرستی میں پیٹرول پمپ مافیا شہریوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں مصروف ہے۔
دریں اثناءکراچی کے شہریوں سے ماہانہ اربوں روپے کی لوٹ مار کا اسکینڈل منظر عام پر آگیا۔ سندھ حکومت کے محکمہ اوزان وپیمائش کے بدعنوان افسران کی مبینہ سرپرستی میں پیٹرول پمپ مافیا شہریوں کو کنگال کرنے میں مصروف ہے۔
پیمائش میں کمی کے باعث شہریوں کوایک لیٹر پیٹرول 200روپے میں ملنے لگا۔محکمہ اوزان وپیمائش میں تعینات کرپٹ افسران کی مبینہ سرپرستی میں گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں میں ڈالے جانے والے پیٹرول کی مقدار میں ڈنڈی ماری جارہی ہے۔
پیٹرول پمپ مافیا مقدار میں کمی کر کے صارفین سے ماہانہ اربوں روپے لوٹنے میں مصروف ہے ۔ کراچی سمیت سندھ بھر کے پیٹرول پمپس سے افسران کا ماہانہ کروڑوں روپے کا بھتہ مقرر ہے جو کہ اعلی افسران تک پہنچایا جاتا ہے۔شہریوں نے محکمہ اوزان وپیمائش کے کرپٹ افسران کیخلاف اعلی تحقیقاتی اداروں سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔




































