
کراچی(ویب ڈیسک) سندھ کابینہ نے طلباءیونین کی بحالی کا بل سندھ اسٹوڈنٹ یونین بل 2019 منظورکرلیا
۔سندھ کا بینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ اسٹوڈنٹ یونین کسی بھی تعلیمی ادارے، تعلیمی تربیتی ادارے چاہے وہ پبلک یا نجی ہو بنائی جا سکتی ہے۔
وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے سندھ اسمبلی کے کمیٹی روم میں سندھ کابینہ کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت سندھ کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا ،جس میں چیف سیکریٹری سندھ، صوبائی وزراء، صوبائی مشیر اور تمام متعلقہ افسران نے شرکت کی اجلاس میں گزشتہ اجلاس کے نکات کی منظوری، 20-2019ءکیلئے گنے کی قیمت کا تعین، چینی کی برآمد کیلئے10.7 روپے فی کلوگرام سپورٹ فریٹ دینے پر غورکیا گیا ۔
سعید غنی نے بتایا کہ کابینہ اجلاس میں طلباءیونین کی بحالی کا بل 2019منظور کرتے ہوئے طے کیا گیا کہ اسٹوڈنٹ یونین کو تعلیمی سرگرمیوں کو روکنایا اسٹوڈنٹ گروپس میں نفرت پھیلانا خلاف قانون ہوگا۔ اسٹوڈنٹ یونین کے لئے اسلحہ رکھنا، اسلحہ کا استعمال یا تعلیمی اداروں میں لانا خلاف قانون ہوگا اسٹوڈنٹ یونین کا کام تعلیمی ماحول بہتر کرنا، نظم و ضبط پیدا کرنا، غیر نصابی سر گرمیوں کو فروغ دینا ہو گا، اسٹوڈنٹ یونین 7 سے 11 ممبران پر مشتمل ہوگی، یہ یونین طلبہ منتخب کرینگے اسٹوڈنٹ یونین کا کام سوشل اور اکیڈمک ویلفیئر کو بہتر کرنا ہوگا انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں گنے کی قیمت مقرر کرنے کی حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔




































