
لاہور(ویب ڈیسک ،خبرایجنسی)پنجاب حکومت کی غیر سنجیدگی کے باعث سرکاری اسپتالوں میں کینسر
کے مریضوں کو مفت ادویات کی فراہمی معطل ہوگئی ہے۔
شعبہ صحت میں پنجاب حکومت کی لاپرواہی کا ایک اور واقعہ سامنے آیا ہے،جہاں پنجاب حکومت نے سرکاری اسپتالوں میں کینسر کی مفت ادویات فراہم کرنے والی کمپنی کے واجبات کو روک لیا ہے۔
غیرملکی دوا ساز کمپنی کی جانب سے پنجاب حکومت اورا سپیشلائزڈ ہیلتھ کو خط بھی لکھا گیا ہے،جس میں کہا گیا ہے کہ جولائی 2018 سے جون 2019 تک بارہ ارب سے زائد کی ادویات فراہم کی گئیں۔
سال 2018ءمیں پنجاب حکومت کے ذمہ 2 ارب 23 کروڑ 90 لاکھ روپے جبکہ سال 2019ءکے ایک ارب سات کروڑ واجب الاداہیں،جس کی وجہ سے کیسنر کی دوائی کو بند کیا جا رہا ہے اور بقایاجات کی ادائیگی تک کینسر کی ادویات اسپتالوں کو سپلائی نہیں کریں گے۔




































