
اسلام آباد( رنگ نونیوز،عکاسی :نعمان لودھی )پاکستان میں حالیہ دنوں میں شدید بارشوں کے نتیجےمیں آنے والے سیلاب نے ملک بھر میں تباہی مچا دی
ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق، سیلاب سے اب تک 881 افراد ہلاک اور 1,176 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ ملک کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب اس آفت سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے،جہاں 223 ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں جبکہ سینکڑوں دیہات صفحۂ ہستی سے مٹ چکے ہیں۔
سیلابی ریلوں سےپنجاب کے 2,000 سےزائد دیہات زیرِ آب آ چکے ہیں،جب کہ زرعی زمینوں کوناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔حکام کے مطابق، 2 ملین سے زیادہ افراد براہ راست متاثر ہوئے ہیں، جن میں سے 13 لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ ریسکیو آپریشنز میں پاک فوج، ریسکیو 1122، اور مقامی حکومتیں بھرپورطریقےسےسرگرم عمل ہیں۔
ادھر بھارت کی جانب سے دریاؤں میں بغیر اطلاع پانی چھوڑنے کے بعد صورتحال مزیدسنگین ہوگئی ہے،جس پرپاکستان نےسخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ پانی کے بہاؤ میں اچانک اضافے سے پنجاب کےمزید علاقوں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہےاور حکومت نے جنوبی پنجاب کے کئی اضلاع میں ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔
زرعی ماہرین کے مطابق، سیلاب سےکپاس، چاول، مکئی اورسبزیوں کی فصلیں بری طرح متاثرہوئی ہیں، جس سےنہ صرف مقامی معیشت کو دھچکا لگا ہے بلکہ آئندہ مہینوں میں مہنگائی کی نئی لہر کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔بین الاقوامی سطح پر یورپی یونین نے متاثرین کی مدد کےلیے 350 ملین روپے کی ہنگامی امداد کا اعلان کیا ہے، جبکہ دیگر عالمی ادارے بھی امدادی کارروائیوں میں شامل ہو رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئےتویہ قدرتی آفت ایک بڑے انسانی بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے۔حکومت سےمطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ سیلاب زدگان کی بحالی کے لیے جامع اور دیرپا حکمتِ عملی اختیار کرے۔





































