
کیرالہ (ویب ڈیسک،خبر ایجنسی) مقبوضہ کشمیر میں بدھ کو مسلسل 129ویں روز بھی بھارتی فوجی محاصرہ
برقرار رہا جس کی وجہ سے وادی کشمیر اورجموں خطے کے مسلم اکثریتی علاقوں میں غیر یقینی صورتحال بدستور قائم رہی۔
کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ علاقے میں دفعہ 144کے تحت سخت پابندیاں نافذ ہیں، چپے چپے پر بھارتی فوجی تعینات ہیں جبکہ انٹرنیٹ اورپری پیڈ موبائل فون سروسز بدستور معطل ہیں جس کے سبب معمولات زندگی بری طرح سے مفلوج ہیں۔
دکانیں صرف صبح کے وقت چند گھنٹوں کیلئے کھولی جاتی ہیں تاکہ لوگ اشیائے ضروریہ خرید سکیں۔ سکول اور دفاتر ویرانی کا منظر پیش کر رہے ہیں جبکہ سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ کم نظر آرہی ہے۔لوگ غیر قانونی بھارتی قبضے اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے 5اگست کے بھارتی حکومت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدم کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کے لیے سول نافرمانی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
دریں اثنا ممتاز کشمیری صحافی اور کشمیر ٹائمز کی ایگزیکٹو ایڈیٹر انورادھا بھاسن نے کہا ہے کہ تمام مواصلاتی ذرائع کی معطلی کے باعث مقبوضہ کشمیر میں میڈیا وینٹی لیٹر پرپڑے مریض کی طرح اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ انورادھا بھاسن نے بھارتی ریاست کیرالہ کے شہر تھر سور میں ”کشمیر میں میڈیا کی آزادی“ کے عنوان سے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کشمیر میں انٹرنٹ اور موبائل فون سروسز سمیت ذرائع ابلاغ کی بندش کے باعث میڈیا سے وابستہ افراد کو بے انتہا مشکلات کا سامنا ہے۔





































