
اسلام آباد(ویب ڈیسک ،خبرایجنسی) آئی ایم ایف نے ریجنل اکنامک آﺅٹ لک رپورٹ جاری کر دی ۔ پاکستان میں رواں مالی سال جی ڈی پی شرح نمو دو
اعشاریہ چھ فیصد رہنے کا امکان ہے ۔ مشرق وسطی اور وسط ایشیا میں علاقائی تنازعات کو معاشی ترقی کیلئے خطرہ قرار دیدیا ۔
رپورٹ کے مطابق معاشی سست روی کے باعث پاکستان کی شرح نمو میں صفراعشاریہ چھ فیصد کمی متوقع ہے ۔ اگلے مالی سال میں شرح نمو تین اعشاریہ چھ فیصد ہو جائےگی ۔ مہنگائی میں کمی کا رجحان جاری رہے گا۔ پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ملکوں میں معاشی سرگرمیاں بتدریج مضبوط ہونے کا امکان ہے ۔ تاہم معاشی نمو سست روی کا شکار رہے گی ۔
اس کی بڑی وجہ بڑھتی ہوئی عالمی تجارتی کشیدگی اور غیریقینی صورتحال ہے ، اس سے پاکستان کی امریکا کو برآمدات متاثر ہوسکتی ہیں۔ ادارہ جاتی اصلاحات بھی توقعات کے مقابلے میں سست رہنے کا خدشہ ہے ۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سوڈان، غزہ، لبنان، شام اور یمن میں تنازعات نے معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے جبکہ پاکستان میں معاشی بحالی کی توقع ہے اور سیلاب کے بعد زرعی پیداوار میں بہتری آئی ہے۔
اکتوبر کے بعد مہنگائی کا دباﺅ کم ہونے سے شرح سود میں پانچ سو پچاس بیسز پوائنٹس کی کمی آئی ۔ دوسری ششماہی میں شرح سود میں مزید کمی متوقع ہے ۔ پاکستان سمیت علاقائی ملکوں کیلئے بیرونی معاشی خطرات برقرار ہیں ۔سوڈان میں 4ملین افراد بے گھر، غزہ میں 48,000شہادتیں، لبنان میں 4,300اموات ہوئیں۔
انہوں نے مزید بتایا گیا کہ شام میں 60 فیصد معاشی سکڑا، لبنان میں افراط زر بلند سطح پر برقرار ہے، مصر اور اردن میں تنازعات کے اثرات کی وجہ سے گروتھ دباﺅ کا شکار ہے، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025میں پاکستان اور ایم ای این اے ممالک کی مجموعی عوامی مالی ضروریات 263ارب ڈالر ہیں۔




































