
بیجنگ(ویب ڈیسک ) چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا ہے کہ خوف ہراس کسی بھی وائرس سے زیادہ تباہ کن اور
مہلک ہے اور یہ کی کسی بھی وبائی مرض سے متعلق ردعمل کسی خوف کی بجائے سائنس کے اصولوں پر مبنی ہوناچاہیے۔
ترجمان ہوا چھن ینگ نے یہ بیان بعض امریکی میڈیا رپورٹس پر تبصرہ کرتے ہوئے دیا جن میں کہاگیا ہے کہ کرونا وائرس کے خلاف امریکی پابندیوں کے اقدامات کے نتیجہ میں چینی مصنوعات پر انحصار کرنے والی امریکی کمپنیوں اور صارفین کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔اس کے علاوہ گولڈ مین سشس کی حالیہ دنوں میں جاری ہونے والے ایک رپورٹ میں امریکی شرح پیداوار میں کرونا وائرس کے باعث پہلی سہ ماہی میں0.4 فیصد سالانہ کمی کی پیش گوئی کی گئی ہے جس کی وجہ امریکی پابندیوں کے باعث چینی سیاحوں کی تعداد میں 28فیصد اوران کےاخراجات میں 5ارب80کروڑ ڈالر کے کمی ہونا ہے۔ہوانے کہا کہ کئی ممالک کے میڈیا،تھنک ٹینکس،ماہرین اور سکالرز نے کچھ ممالک کی بے جا پابندیوں پر تشویش کااظہار کیا ہے۔
عالمی ادارہ صحت نے بھی کئی بار زوردے کرکہا ہے کہ کہ وہ بین الاقوامی سفراور تجارت میں غیر ضروری مداخلت جیسے اقدامات کی سفارش نہیں کرتا اور اس نے تمام ممالک سے افواہوں کو رد کرنے اورسائنسی اور شواہد پر مبنی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ترجمان نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ متعلقہ ممالک ڈبلیو ایچ او کی مستند اور پیشہ وارانہ سفارشات کا احترام اوربے جا ردعمل کی بجائے موجودہ صوتحال میں عقل اورسائنس کے اصولوں پر مبنی طرزعمل ظاہر کریں گے۔
اس بات کا ذکر کرتے ہوئے امریکی اعدادوشمارکے مطابق امریکہ میں موسمیاتی انفلوئنزا سے 1کروڑ90لاکھ افراد متاثر اور10ہزار کی اموت ہوئی، ہوا نے کہا یکم فروری سے کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد صحت یاب ہونے والوں سے کم ہوگئی ہے۔4فروری تک کل892 مریضوں کو صحت یاب ہونے پر اسپتالوں سے ڈسچارج کیاگیا جو اس وائرس سے ہالک ہونے والوں کی تعداد سے دگنا ہے جبکہ مسلسل دوسرے روز اس وائرس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد میں کمی ہوئی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ گلوبلائزیشن کے اس دور میں تمام ممالک کے مفادات اوران کی تقدیریں ایک دوسرے سے وابستہ ہیں اور صحت عامہ کے بحران کی صورت میں تمام ممالک کو تمام انسانوں کے مشترکہ مفاد کے تحفظ کی خاطر مشکلات پر قابو پانے میں ایک دوسرے کی مدد کرنا چاہئے۔





































