
اقوام متحدہ /رام اللہ (ویب ڈیسک ،خبر ایجنسی)امریکا نے اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت کی فلسطینی درخواست کو ویٹو کردیا۔
سلامتی کونسل نے آج فلسطین کی اقوام متحدہ کا مکمل رکن بننے کی کوشش کو امریکا کی جانب سے ایک وسیع حمایت یافتہ قرارداد پر ویٹو کرنے کی وجہ سے روک دیا ،جس میں فلسطین کو ادارے میں مکمل رکنیت کا درجہ دینے کی سفارش کی گئی تھی۔
الجزائر کی جانب سے 15 رکنی کونسل میں پیش کی جانے والی اس تجویز کے حق میں 12 ووٹ ملے، امریکا نے اس کے خلاف ووٹ دیا ،جبکہ سوئٹزرلینڈ اور برطانیہ نے اس میں حصہ نہیں لیا۔اقوام متحدہ میں فلسطینی مندوب ریاض منصور نے کونسل کو بتایا کہ ہم کسی کی جگہ نہیں لینا چاہتے بلکہ اقوام متحدہ میں مساوی طور پر داخل ہونا چاہتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہاکہ امریکاکی جانب قرارداد کو ویٹو کرنے سے ہم ہمت نہیں ہاریں گے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین کی ریاست ناگزیر ہے اور یہ حقیقی ہے ، کونسل کی قرارداد کے حق میں کم از کم 9 ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے ،جس کو کوئی بھی مستقل ممبر ویٹو نہ کرے۔الجزائر کا مسودہ ایک مستقل رکن کے منفی ووٹ کی وجہ سے ناکام ہو گیا۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں فلسطین کو مکمل ریاست کی رکنیت دینے کی درخواست پر امریکا کے ویٹو کرنے پر فلسطین نے شدید تنقید اور مذمت کی ہے، اس حوالے سے فلسطینی صدر محمود عباس نے امریکا کی جانب سے درخواست ویٹو کرنے کی مذمت کرتے ہوئے اقدام غیر منصفانہ اور غیر اخلاقی قرار دیا۔انہوں نے کہاکہ یہ جارحانہ اقدام امریکا کی دوغلی خارجہ پالیسی کو ظاہر کرتا ہے، جو ایک طرف دو ریاستی حل کی حمایت کا دعوی کرتی ہے اور دوسری طرف اقوام متحدہ کو اس کے بار بار استعمال کے ذریعے اس حل کو نافذ کرنے سے روکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مشرق وسطی کے خطے اور دنیا میں امن، سلامتی اور استحکام کا حصول بین الاقوامی قانونی قراردادوں پر عمل درآمد، ریاست فلسطین کی سرزمین پر اسرائیلی قبضے کو ختم کرنے اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو تسلیم کرنے پر منحصر ہے۔




































