
کراچی (رنگ نو ڈاٹ کام) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں منعقدہ بارہویں عالمی اُردو کانفرنس کے
دوسرے دن کشور ناہید سے ملاقات کے سیشن بھی رکھا گیا، جس کی میزبانی نجیبہ عارف نے کی۔
تقریب میں کشور سلطانہ سے کشور ناہید تک کا سفر، قیامِ پاکستان ، والد کا جیل جانا، مہاجرت اور بے گھری کا دور، انسانی حقوق خصوصاً حقوق نسواں کے حوالے سے نثر، نظم، تراجم، عورتوں کی خود مختاری اور فیمنس ترانے کی تخلیق سے لے کر مختلف تنظیمیں بنانا، آمریت کے خلاف جدوجہد، یونیسف سے مسلک ہوجانا جیسی چیدہ چیدہ یادداشتوں کے ساتھ ساتھ کشور ناہید نے اپنی نظمیں بھی سنائیں۔
انڈیا سے آئے ہوئے دانشور شمیم حنفی نے کہاکہ پاکستان سے میرا تعلق کشور ناہید کے ذریعے ہی بنا جس کو 40سال ہوچلے ہیں، کشور کی شاعری نہ کسی کی شخصی شاعری ہے نہ ہی کسی خطے کی شاعری، ان کی شاعری یونیورسل یعنی عالمی نوعیت کی حامل ہے، کشور ناہید نے برصغیر میں شاعروں کو ایک خاص اسلوب دیا۔




































