
کراچی( رنگ نوڈاٹ کام ) وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ پاکستان کے سیاست دان ،ادیبوں
اور دانشوروں سے سیکھیں آج ملک کو ترقی کی ضرورت ہے ۔وہ اتفاق اور تدبر سے ہی ہو سکتی ہے۔
عالمی اُردو کانفرنس کے مندوبین آرٹس کونسل کے نہیں حکومت سندھ کے مہمان ہیں اور سندھبا حکومت میزبانی کا حق ادا کرے گی۔ مجھے اس کانفرنس میں شرکت کر کے خوشی ہوئی ہے۔ اس شہر سے جو لوگ منتخب ہوتے رہے ہیں وہ اس شہر کے مسائل حل نہیں کرا سکے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نےآرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں 12ویں عالمی اردو کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
کانفرنس میں پاکستان سمیت دنیا کے 24 ممالک سے دو سو سے زائد مندوبین شریک ہوئے ہیں۔کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں مختلف سیاسی سماجی و ادبی شخصیات نے شرکت کی۔
انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس نے ثابت کر دیا کہ پاکستان مختلف ثقافتوں کا ملک ہے اور ہر ثقافت پاکستان کی ثقافت ہے ہر صوبے میں ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس جب کا نفرنس شروع ہوئی تو فہمیدہ ریاض ہم سے بچھڑ گئی تھی اور آج جوش ملیح آبادی کی سالگرہ ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ آرٹس کونسل نے مختلف ادب اور زبانوں کے ادیبوں کو یہاں جمع کر کے اچھا اقدام کیا۔ سندھ کے لوگ سب کو ساتھ لے کر چلنے کی بات کرتے ہیں، آج کی کانفرنس سے یہی پیغام دیا گیا ہے کہ اردو کے ساتھ پاکستان کی مختلف زبانیں پورے ملک کی ثقافت ہے۔ وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ ہم سب مل کر ملکی مسائل کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ کہا کہ آرٹس کونسل جو خدمات انجام دے رہا ہے اس کی ہر ممکن مدد اور تعاون کیا جائے گا۔
وزیر ثقافت سندھ سردار علی شاہ نے کہا کہ ہم نے دانشوروں سے لکھنا پڑھنا چلنا سیکھا۔اج کی اردو کانفرنس کلچرل ہارمنی قائم کرنے کی طرف قدم ہے۔ انہوں نے کہا جتنے لکھنے والے کانفرنس میں شریک ہیں ان سب کی پاکستان کو ضرورت ہےپنجابی سندھی پشتو اور بلوچی شعراءنے پاکستان کی خدمت کی ہےان سب نے امن اور برداشت کا درس دیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے ہر لہجے میں اردو دیکھی ہے۔ جس طرح سندھ ندی نے اپنے دونوں کناروں پر کشمیر سے کشمور تک لوگوں کو جوڑا ہو ہے اسی طرح اردو نے پورے برصغیر کو جوڑا ہوا ہے۔ ہمیں کسی بھی زبان سے نفرت نہیں بلکہ سب سے پیار ہے۔ پہنجاب سندھ، کے پی کے اور بلوچستان کے شاعروں نے انسانیت کی خدمت اور محبت کے فروغ کا درس دیا ہے آج اس کو فروغ دینے کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے ۔
آرٹس کونسل کے صدر محمد احمد شاہ کہا کہ میں شکریہ ادا کرتا ہوں کہ جذبے کے ساتھ پوری دنیا سے ادیب اردو کانفرنس میں شرکت کے لیے آئے ہیں۔ یہ کانفرنس ایسی کہکشاں ہے جہاں ادب کے چمکتے ستارے شامل ہیںارہ سال پہلے سوچا تھا کہ اردو کے لیے کچھ کرنا چاہیے کوشش جاری ہے ۔




































