
اسلام آباد: ملک میں صحت، تعلیم، زراعت، سیاحت اور صنعتی شعبے کو فروغ دینے کے لیے وفاق نے صوبوں کو مکمل تعاون یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان، گورنر شاہ فرمان اور دونوں صوبوں کے وزرا سے شرکت کی۔
اجلاس میں وزیراعظم نے عوام کو درپیش مشکلات کے حل کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا، ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی 6 ماہ کے عرصے کے بعد اگلے مرحلے کا آغاز ہونے جارہا ہے جس کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان مزید مربوط تعاون ہونا چاہیے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عوام کی بہتری کے لیے کیےگئے حکومتی اقدامات کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ انہیں علم ہوسکے کہ گزشتہ حکمرانوں نے ملک کا کیا حال کر چھوڑا ہے، انہوں نے کہا کہ’ہم نے مشکل حالات میں اقتدار سنبھالا اور ہم جانتے ہیں کہ روپے کی قدر میں کمی کے باعث لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے تاہم حکومت ملک کو خوشحال بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کررہی ہے‘۔
اجلاس میں وزیر برائے منصوبہ بندی خسرو بختیار نے مستقبل میں حکومتی ترجیحات پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر وزیراعظم نے ملک میں سیاحت کو فروغ دینے کے لیے ایک روڈ میپ تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا، ان کا کہنا تھا کہ ’ہم صرف سیاحت سے 40 ارب ڈالر سالانہ حاصل کرسکتے ہیں‘۔
اجلاس میں صوبائی وزرا نے دونوں صوبوں کے تعلیم، صحت، زراعت اور دیگر شعبہ جات سے متعلق بریفنگ دی جس پر وفاقی اور صوبائی وزرا پر مشتمل ورکنگ گروپس تشکیل دیے گئے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے بتایا کہ پنجاب میں 7 صنعتی زونز کے قیام کے لیے سمری بورڈ آف انویسٹمنٹ (بی او آئی) کو ارسال کردی گئی ہے اور بی او آئی کو سیاحت کے لیے بھی خصوصی اقتصادی فریم ورک 30 دن کے اندر بنانے کی ہدایت کی گئی ہے اور رشاکئی اقتصادی زون جلد کام شروع کردے گا۔




































