
لاہور(ویب ڈیسک،خبرایجنسی )ملک بھرمیں چینی کی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے،ایک ماہ قبل چینی کی پرچون میں فی کلو قیمت 140روپے تھی جبکہ
منڈیوں میں چینی کے 50کلو والے تھیلے کی قیمت 6ہزار 200 روپے تھی، اب پرچون میں فی کلو قیمت 175سے 180روپے ہو گئی ہے جبکہ 50کلو والے تھیلے کی قیمت 1800روپے بڑھ کر 8ہزار روپے سے بڑھ گئی ۔
حکومت نے شوگر ملز کے اصرار پر اضافی چینی برآمد کرنے کی اجازت دی اور دوسری جانب رمضان کا مہینہ بھی نزدیک ہے، اس وجہ سے چینی کی قیمت میں اچانک بڑا اضافہ ہوگیا ہے،حکومت نے ملک بھر میں چینی کی اضافی مقدار موجود ہونے اور قیمتوں میں اضافہ نہ ہونے کی یقین دہانی پر گزشتہ سال جون سے اکتوبر 2024کے دوران 7لاکھ 50 ہزار ٹن اور اکتوبر کے بعد 5 لاکھ میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی۔رواں مالی سال کے 7ماہ کے دوران سب سے زیادہ چینی افغانستان کو 26کروڑ 27لاکھ ڈالر مالیت کی برآمد کی گئی ہے۔
حکومت نے ماہ رمضان میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے چینی کو سستے بازاروں میں 130روپے فروخت کرنے کا اعلان کیا ہے، شوگر ملز نے سستے بازاروں میں تو چینی 130روپے فروخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم اوپن مارکیٹ میں چینی کی قیمت بے قابو ہو گئی ہے، ایک ہی ماہ میں فی کلو 40روپے کا اضافہ ابھی صرف ایک جھلک ہے۔
شوگر ملز ایسوسی ایشن پنجاب نے اعلامیہ جاری کیا ہے کہ چینی کی قیمتیں طلب اور رسد کی بنیاد پر مارکیٹ کی قوتیں طے کرتی ہیں، اس وقت رمضان کی آمد سے قبل سٹے باز زیادہ منافع کیلئے چینی کی قیمتوں سے متعلق افواہیں مارکیٹ میں پھیلارہے ہیں ،جس سے قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے،چینی کی لاگت میں مسلسل اضافے کے باوجود اس وقت بھی دنیا کی سب سے سستی چینی ہم لوگ ہی بنا رہے ہیں۔





































