
کراچی (ویب ڈیسک )گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے آئندہ دو ماہ کیلئے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے شرح سود
میں ایک فیصد اضافے کا اعلان کردیاہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کی زیر صدارت مانیٹری پالیسی کا اجلاس ہوا،جس کے بعد آئندہ دو ماہ کے لیے شرح سود میں مزید100بیسز پوائنٹس یعنی ایک فیصد اضافہ کرتے ہوئے اسے13.25فیصد کر دیا گیا ۔
گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کر تے ہوئے کہا کہ شرح سود میں اضافے کی وجہ سے آئندہ دو ماہ کے دوران مہنگائی میں اضافے کا امکان ہے جوہمارے اندازے سے بھی زیادہ ہے، تاہم رواں سال مہنگائی کی شرح11سے12فیصد رہنے کا امکان ہے۔
رضا باقر نے کہا کہ جون 2020سے شروع ہونے والے مالی سال میں مہنگائی کی شرح میں کافی حد تک کمی آئے گی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پالیسی ریٹ طے کرنے سے پہلے ہم مارکیٹ کا سروے کرتے ہیں،اس بات کو مد نظر رکھا جاتا ہےکہ مارکیٹ والے کیا سو چ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ ماہ جو مہنگائی کا جو سلسلہ ہونے جارہا ہے تواسکا اس پالیسی ریٹ میں تعین کیا جاچکا ہے،پالیسی ریٹ کیلئے صرف مہنگائی کودیکھ کر فیصلہ نہیں کیاجاتا ۔ آج پالیسی ریٹ کو دیکھتے ہوئے آپ نے فیصلہ کرنا ہے کہ آپ نے انویسٹمنٹ ڈالر میں رکھنی ہے روپے میں۔اس وقت بنیادی شرح سود12.25فیصد ہے اور مئی2018سے اب تک شرح سود میں5.75فیصد کا اضافہ ہوچکا ہے۔ دوسری جانب جون2019میں مہنگائی کی شرح8.9فیصد رہی۔روپے کی گرتی قدر اور مہنگائی میں مسلسل اضافے کے باعث ماہرین توقع کررہے ہیں کہ اسٹیٹ بنک موجودہ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے شرح سود میں اضافہ کرسکتا ہے۔ شرح سود میں آدھا سے1فیصد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔
۔اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ شرح سود میں اضافے کی وجہ سے ملک میں مہنگائی کی نئی لہر آئے گی اور قیمتوں میں ہوشربا اضافے کا خطرہ ہے، شرح سود بڑھنے سے سب سے زیادہ نقصان خود حکومت کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ حکومت اپنے خسارے کو پورا کرنے کے لیے بینکوں سے قرض لے رہی ہے اور بلند شرح سود سے حکومت کو سود کی ادائیگی کی مد میں اضافی سوا تین سو ارب روپے ادا کرنا پڑیں گے۔
ماہرین کے مطابق شرح سود میں مسلسل اضافے سے سرمایہ کاری کم ہو گی اور نجی شعبے کے بینکوں سے قرض لے کر کاروبار شروع کرنا مشکل ہو جائے گا۔




































