
واشنگٹن (ویب ڈیسک ) ورلڈ بینک نے کہا ہے کہ دنیا میں جاری تجارتی کشیدگی کے باعث سرمایہ کاری میں رکاوٹ
کا سامنا ہے اور سرمائے کے بغیر اقتصادی سرگرمیوں سے غربت کی شرح میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
ورلڈ بینک کے چیف ماہر اقتصادیات پائن لوپی کوجیانو گولڈ برگ کا ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہا کہ دنیا میں جاری تجارتی کشیدگی سے عالمی اقتصادی شرح نمو متاثر ہورہی ہے، ترقی کے بغیر لوگ لامحالہ جدوجہد کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ کہ امریکہ چین تجارتی جنگ تمام عالمی جھگڑوں کا مرکز ہے کیونکہ اس سے سینکڑوں ارب ڈالر کی تجارت متاثر ہورہی ہے، امریکہ کی یورپی یونین سے بھی مزاحمت کی صورتحال، کینیڈا اور میکسیکو کے ساتھ تجارت بارے قوانین بھی تبدیل کررہا ہے اس کے علاوہ برطانیہ کا یورپی یونین سے انخلاءبھی تجارتی کشیدگی کا ایک عنصر ہے۔
پائن لوپی کوجیانو گولڈ برگ کا کہنا تھا کہ اس غیر یقینی کی صورتحال میں سرمایہ کاری کا عمل کم ہوچکا ہے جس سے بالخصوص افریقہ جیسے غریب علاقوں میں اقتصادی ترقی کی شرح نمو متاثر ہورہی ہے ،اس کا مطلب ہے کہ کچھ ممالک کبھی غربت کی چکی سے نہیں نکل پائیں گے۔جن ممالک نے خود کو غربت کے دائرے سے نکالا ہے وہ اب اوسط آمدنی والے ملکوں میں شامل ہیں تاہم تجارتی کشیدگی کی صورتحال جاری رہی تو یہ ممالک دوبارہ پرانے حالات کی طرف لوٹ کر پسماندہ ہوسکتے ہیں۔





































