
اسلام آباد ( ویب ڈیسک ) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افسوس ہے کہ ملکوں کے لیے انسانوں سے زیادہ پیسہ اہم ہے اور
جبھی مقبوضہ کشمیر کے مظالم کی کوریج نہیں دی جارہی،نریند ری مو دی نے اتنی بڑی حما قت کی اپنا آخری پتہ کھیل دیا ۔مودی سمجھتا ہے کہ کشمیری بھیڑ بکر یو ں کی طرح ان کا فیصلہ ما ن لیں گے ، مو ت کا خوف ختم ہو چکا کرفیو اٹھتے ہی لا کھو ں کشمیر ی سڑکو ں پر نکلیں گے ۔
اسلام آباد میں یوم یکجہتی کشمیر ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آج یہاں ہم اس لیے جمع ہیں کہ کشمیریوں کو پیغام دیں کہ پاکستانی قوم کشمیر کے لوگوں کے ساتھ کھڑی ہے اور کھڑی رہے گی۔انہوں نے کہا کہ ہم بار بار دنیا کو یہ پیغام دیں گے کہ 80 لاکھ انسانوں کو بھارت کی فوج نے کرفیو میں بند کیا ہوا ہے، جسے 2 ماہ سے زیادہ ہوگیا ہے،۔
انہوں نے کہا کہ عالمی میڈیا ہانگ کانگ کے احتجاج کو فرنٹ پیج، شہ سرخی اور خبروں میں بیان کررہا ہے کہ وہاں ایک جمہوری تحریک چل رہی ہے جبکہ وہاں تھوڑے لوگ زخمی ہوئے اور 2 سے 3 لوگ مرے ہیں مگر دوسری جا نب مقبوضہ کشمیر میں 80 لاکھ لوگوں کو ہی بند نہیں کیا، بچے، بوڑھے، خواتین، بیمار سب لوگ بند ہیں اور عالمی میڈیا میں اس کی کوریج نہ ہونے کے برابر ہے، گزشتہ 30 سال میں کم از کم ایک لاکھ کشمیریوں کی شہادت ہوئی کیونکہ وہ اپنا وہ حق مانگ رہے ہیں جو عالمی برادری، اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے دیا تھا اور وہ حق خودارادیت ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کشمیریوں کو حق دیا گیا تھا کہ وہ اپنی زندگی کا فیصلہ خود کریں گے لیکن وہ حق نہ ملنے پر وہ احتجاج کرتے ہیں، جس پر بھارتی فوج ظلم کرتی ہے لیکن بھارتی ظلم کی یہ داستانیں کبھی کبھی عالمی اخباروں میں آتی ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ آج دنیا کے سامنے اس دہرے معیار کو سامنے رکھنا چاہتا ہوں کہ ایک طرف ایک مظاہروں کو اتنا دکھایا جاتا جبکہ دوسری طرف اتنا ظلم ہورہا اسے نہیں دکھایا جاتا، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ہانگ کانگ تو چین کا حصہ ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر تو بھارت کا حصہ بھی نہیں ہے وہ تو ایک متنازع علاقہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ میرا ایمان ہے کہ یہ راستہ کشمیریوں کی آزادی کا ہے۔قبل ازیں وفاقی دارالحکومت میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے بڑی تعداد میں عوام سڑکوں پر نکلی اور اس سلسلے میں ایک ریلی بھی نکالی گئی، جس میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی بھی شریک تھے ۔سلام آباد میں ایکسپریس چوک سے ڈی چوک تک انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی گئی۔





































