
جنیوا(ویب ڈیسک،خبر ایجنسی)وزیراعظم عمران خان نے جنیوامیں پناہ گزینوں کے پہلے عالمی فورم سے خطاب
کرتے ہوئے کہا ہے کہ بے بس اور بے وسیلہ پناہ گزین کے مسائل کا امیر ملک ادراک نہیں کرسکتے، دنیا سے ایسے حالات کا خاتمہ کرنا ہوگا جس سے لوگ مہاجر بنتے ہیں۔
سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں پناہ گزینوں کے پہلے عالمی فورم کا آغاز ہوا،جس کی مشترکہ صدارت وزیراعظم عمران خان کررہے تھے۔
وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ پہلے ریفیوجی گلوبل فورم کے انعقاد پر بہت خوشی ہے اور میں دنیا میں سب سے زیادہ مہاجرین کی میزبانی کرنے پر ترک صدر رجب طیب اردوان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور بھارت میں متنازع شہریت بل کی منظوری کا نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ دنیا جان لے کہ بھارت میں پناہ گزینوں کا ایک بڑا بحران جنم لے رہا ہے، 5 اگست سے مقبوضہ کشمیر کے 80 لاکھ عوام محصور ہیں، جان بوجھ کر مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں خدشہ ہے کہ مسئلہ کشمیر پر توجہ نہ دی گئی تو دو ایٹمی ممالک میں ٹکراو ہو سکتا ہے، بھارت کو غیر قانونی اقدامات سے باز رکھ کر پناہ گزینوں کے ایک بڑے بحران سے بچا جا سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے مسلمانوں کو شہریت سے محروم کرنے کے لئے متنازع شہریت بل منظور کیا ہے۔20 کروڑ بھارتی مسلمانوں کے حقوق چھینے جا رہے ہیں، اس قانون کے خلاف بھارت میں فسادات ہو رہے ہیں اور لوگ سڑکوں پر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان مشکلات کے باوجود 30 لاکھ افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہا ہے، چاہتے ہیں کہ چالیس سال سے مصائب کا شکار افغان عوام امن کے ثمرات سے مستفید ہوں، ایسے حالات پیدا کرنے ہوں گے کہ مہاجرین با عزت طریقے سے اپنے وطن لوٹ سکیں۔۔افغان مہاجرین کی وجہ سے ملک کو تاریخ کے سب سے بڑے مہاجر مسائل کا سامنا رہا ہے۔
اانہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر 2 ایٹمی ممالک کے درمیان تنازع ہے، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل یہاں موجود ہیں، یہ وقت ہے کہ عالمی برادری اس صورتحال کا نوٹس لے۔وزیراعظم نے کہا کہ بھارتی حکومت نے شہریت کا متنازع بل متعارف کرایا ہے، یہی کچھ میانمارمیں ہوا جس کے بعد مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا، بھارت میں 20کروڑمسلمانوں کی شہریت خطرے میں ہے، بھارتی شہری گلیوں میں نکل آئے، بھارت میں معاملات مزید خراب ہوئے تو سنبھالنے مشکل ہوجائیں گے۔




































