
اسلام آباد: سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت نے سابق صدر جنرل (ر)پرویز مشرف کا
تفصیلی فیصلہ سنادیا ۔
سزائے موت کا تفصیلی فیصلہ جسٹس وقار سیٹھ کی سربراہی میں جسٹس شاہد فضل کریم اور جسٹس نذرمحمد پر مشتمل تین رکنی پینچ نے جاری کیا ۔
عدالتی فیصلے کے مطابق جنرل ( ر) پریز مشرف آرٹیکل چھ کے تحت مجرم قرار پائے،پرویز مشرف پرآئین توڑنے،ایمرجنسی لگانے اورججز کو نظر بند کرنے کے الزامات ثابت ہوئے ہیں ۔
خصوصی عدالت کے فیصلے میں مزید کہا گیاکہ پرویز مشرف کیخلاف آئین میں غیر قانونی ترامیم،آرمی چیف کی حیثیت سے آئین معطل کرنے اور غیر آئینی پی سی او جاری کرنے کا بھی جرم ثابت ہواہے ۔لہٰذا پرویز مشرف مجرم ہیں ،قانون نافذ کرنے والے ادارے انہیں گرفتا ر کرکے سز پر عملدرآمد کروائیں ۔پرویز مشرف انتقال کر جائیں تو انہیں ڈی چوک لایا جائے اور3دن تک لاش کو لٹکایا جائے۔
تین رکنی بینچ میں اکثریتی فیصلہ جسٹس وقار سیٹھ اور شاہد فضل کریم نے سنایا جبکہ جسٹس نذرمحمد اختلاقی نوٹ تحریر کیا ۔عدلت نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ پرویز مشرف کو کیس میں بھر پور موقع دیا گیا 2014میں شروع ہونے والا مقدمہ 2019میں مکمل ہوا ۔عدالت نے سیکیورٹی اداروں کو پرویز مشرف کی گرفتاری کا حکم دیا ۔تفصیلی فیصلے کی کاپیاں نمائندہ وزارت داخلہ اور پرویز مشرف کے نمائندے کے حوالے کردی گئیں ۔




































