
اسلام آباد(ویب ڈیسک ،خبر ایجنسی)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پاکستان اور بھارت کے مابین نمایاں معاملات حل کرنے سے
متعلق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونو گوتریس کی ثالثی کی پیشکش کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیکرٹری جنرل کی پیشکش پر بھارتی رد عمل دونوں ملکوں کے مابین نمایاں مسائل کے حل سے راہ فرارکی عکاسی کرتا ہے۔
منگل کو یہاں رفیوجی سمٹ کے دوسرے دن تقریب سے خطاب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ کشمیر ایک بین الاقوامی تنازعہ ہے اور بھارت اپنا غیر قانونی یکطرفہ فیصلہ زبردستی مسلط نہیں کر سکتا۔
قبل ازیں کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ کانفرنس نے پاکستان کی ان فراخدلانہ اور پروگریسیو پالیسوں کو تسلیم اور سراہا ہے ،جس کی وجہ سے لاکھوں افغان مہاجرین کو بغیر کسی امتیاز کے صحت،تعلیم ،زریعہ معاش اور سماجی سرگرمیوں تک رسائی ممکن بنادی گئی
انفرنس کے شرکاءنے اس بات پر زور دیا کہ افغان تنازعہ کا حتمی حل افغان عوام کے ہاتھ میںہے اور مہاجرین کی رضا کارانہ وطن واپسی اور پائیدار دوبارہ آبادکاری افغان مہاجرین کے مسئلے کا ترجیحی حل ہے۔ کانفرنس میں وزیر اعظم عمران خان،اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونوگوتریس،نائب صدر دوئم افغانستان ، یو این ہائی کمشنربرائے مہاجرین ،وزراءاور دیگر اعلی حکومتی عہدیداروں سمیت تقریبا 500 مندوبین نے شرکت کی۔




































