
کراچی(ویب ڈیسک) وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ مجھے جس چیز کا ڈر تھا آج افسوس کے ساتھ وہی ہوگیا ہے۔ضلع
وسطی کراچی کی کچی آبادی میں ایک ہی خاندان کے سات افراد میں کورونا ظاہر ہوا ہے۔
یہ بات انہوں جمعرات کو اپنے جاری ویڈیو پیغام میں کہی انہوں نے کہا کہخاندان کا سربراہ باہر سے یہ وائرس لے کر گھر گیا تھا، پورے خاندان بشمول ایک سال کا بیٹا اور 6 سال کی بیٹی میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ یہی لوگ جب فیکٹریوں یا انڈسٹریز میں جائیں گے تو اس سے کورونا وائرس مزید پھیلے گاتو اسے کنٹرول کرنے میں مشکل پیش آئے گی۔ و
زیراعلی سندھ نے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ کچی آبادی میں رہنے والے بہن بھائیوں سے گزارش ہے راشن اور امداد ضرور لیں، لیکن راشن اور امداد کے ساتھ کورونا وائرس گھر نہ لے جائیں،انہوں نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ راشن یا امداد لیتے وقت ایک دوسرے سے فاصلہ ضرور اختیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہر شخص اور ادارے کو حفاظتی تدابیر اختیار کرنا ہوں گی۔
وزیراعلی سندھ نے کہا کہ جب سے یہ وبا پھیلی ہے اس وقت سے اب تک صوبہ سندھ میں 11623 ٹیسٹ کئے جا چکے ہیں اور ان میں سے 1188 کیسز مثبت آئے ہیں۔ سندھ میں اس میں سے 349 یعنی 31 فیصد صحت یاب ہوکر گھروں کو جاچکے ہیں۔
وزیراعلی سندھ نے بتایا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں ہم نے 642 ٹیسٹ کئے ہیں، جس میں سے 92 کیسز ظاہر ہوئے ہیں۔ اس وقت صوبے بھر میں کورونا کیسز کی تعداد 1128 ہوگئی ہے۔
وزیراعلی سندھ نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں ایک ہلاکت ہوئی ہے اور اس طرح جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 21 ہوگئی ہے،وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ جب لاک ڈاؤن ختم ہوگا تو زندگی نئے اصولوں کے ساتھ شروع ہوگی، انہوں نے کہا کہ آپ سب کو اپنی اور اپنے خاندان کی صحت کا بھرپور خیال رکھنا ہوگا۔





































