
اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال
پاکستان کیلئے ایک بڑا چیلنج ہے۔پوری قوم متحد ہو کر اس وباء کے خلاف جنگ جیتے گی۔ قوم کے ہر فرد کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہو گا۔ جتنی زیادہ احتیاط کی جائے گی نقصان کا احتمال اتنا ہی کم ہو گا۔وباء اور لاک ڈاؤن کے باعث سب سے زیادہ معاشرہ کے غریب اور کمزور طبقات متاثر ہوئے ہیں۔
کورونا ریلیف فنڈ کے حوالہ سے ملکی تاریخ کی سب سے بڑی احساس ٹیلی تھون میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ریلیف فنڈ سے حاصل ہونے والی تمام رقم ان کی امداد پر خرچ کی جائے گی۔ امیر اور صاحب استطاعت طبقہ اس مشکل وقت میں آگے بڑھے۔ احساس پروگرام ملکی تاریخ کا سب سے بڑا اور شفاف پروگرام ہے جس کے فنڈز کا مکمل ریکارڈ موجود ہے۔اب ہمیں سمارٹ لاک ڈاؤن کرنا پڑے گا۔ملک کے مختلف چینلز سے وابستہ اینکرز بھی ٹیلی تھون میں شریک تھے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ چھوٹی دکانیں، کاروبار اور کنسٹرکشن کو کھولنا ہو گا، تعمیرات کا شعبہ دیگر صنعتوں کیلئے بھی محرک کا کردار ادا کرے گا جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، اس وقت دنیا کو ایک بڑے بحران کا سامنا ہے تاہم مجھے یقین ہے کہ اس کے بعد پاکستان مزید مضبوط ملک کے طور پر ابھرے گا۔
اس موقع پر اندرون و بیرون ملک سے بڑی تعداد میں مخیر حضرات نے وزیراعظم کے کورونا ریلیف فنڈ کیلئے کروڑوں روپے کے عطیات کا اعلان کیا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کبھی بھی ہمارے ملک اور دنیا کی تاریخ میں ایسی صورتحال پیدا نہیں ہوئی جیسی اب ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے لاک ڈاؤن کیا ہے، اس کے اثرات سامنے آئیں گے، لوگوں کے پاس جو جمع کی ہوئی رقم تھی یا جو ہم انہیں امداد دے رہے ہیں وہ خرچ ہو رہی ہے، بھوک میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کا ردعمل بھی ویسا ہی ہونا چاہئے جیسا پہلے دیکھنے میں نہیں آیا، حکومت اپنی طرف سے مستحق افراد کی امداد کی پوری کوشش کر رہی ہے، ہم نے ایک بڑا پیکیج دیا ہے، ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی زیر قیادت احساس پروگرام زبردست اور شفاف انداز میں چل رہا ہے، مالی امداد کی تقسیم کا تمام نظام کمپیوٹرائزڈ ہے اور ڈیٹا بیس کی بنیاد پر مالی امداد دی جا رہی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ جو وقت آگے آ رہا ہے اس میں ساری قوم کو مل کر مقابلہ کرنا پڑے گا، اکیلے کوئی حکومت ایسی صورتحال کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ وزیراعظم نے کہا کہ عوام کو چاہئے کہ جتنے بھی عطیات کر سکتے ہیں کریں، بعض اوقات ہمارے لوگوں کو یہ خوش فہمی بھی ہو جاتی ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے پاکستان میں یورپ یا امریکہ جیسے حالات نہیں ہیں اور ہم یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ شاید ہم اس کے پھیلاؤ سے بچ جائیں گے لیکن یہ حقیقت ہے کہ اتنی تیزی سے پھیلنے والا وائرس پہلے کبھی نہیں آیا اور باقی مختلف اقسام کے وائرس سے یہ مختلف ہے، سماجی فاصلہ برقرار رکھنے اور ہر ممکن حد تک احتیاط کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے جب بھی ضرورت پڑی ہے اپنے ملک کی مدد کی ہے۔
۔ وزیراعظم نے کہا کہ ڈیم فنڈ کے لئے تقریباً 14 ارب روپے جمع ہوئے تھے لیکن یہ رقم اسی مقصد کے لئے ہی استعمال ہو گی، لاک ڈاؤن کے حوالے سے بہت تنقید بھی ہوئی لیکن کراچی میں مچھر کالونی، اورنگی ٹاؤن اور اسلام آباد میں کچی آبادیوں کو دیکھیں جہاں پر ایک ایک کمرے میں سات سے آٹھ، آٹھ افراد مقیم ہیں، پینے کا صاف پانی بھی انہیں دستیاب نہیں ہے، تو کتنی دیر تک ہم ان کے لئے لاک ڈاؤن کر سکتے ہیں، بھارت کے نریندر مودی نے لاک ڈاؤن کیا تو وہاں پر دس کروڑ دیہاڑی دار بے روزگار ہو کر بیٹھ گئے کیونکہ وہاں پر بھوک ہے، جہاں زیادہ لوگ جمع ہوں وہاں کورونا پھیلتا ہے۔




































