
اسلام آباد (ویب ڈیسک) لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی معائدے کی خلاف ورزی پر دفتر خارجہ نے سنیئر بھارتی سفارت کار کو طلب کرکے
شدید احتجاج کیا ہے۔ایک سینئر بھارتی سفارتکار کو دفتر خارجہ طلب کیا گیا اور 14اگست 2020 کو لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی خلاف ورزی پر احتجاج کیا گیا۔ بھارتی فائرنگ کے نتیجے میں ایک بے گناہ شہری شدید زخمی ہوا تھا۔کنٹرول لائن کے دھودنیال سیکٹر Dhudhnial Sector میں بھارتی قابض فوج کی بلااشتعال فائرنگ کی وجہ سے، گاوں تیجیاں Tejian, کی رہائشی، 03 سالہ زلیخا Zulekha دختر مشتاق شدید زخمی ہوگئی۔
بھارتی فوج کنٹرول لائن اور ورکنگ بانڈری کے ساتھ ملحقہ علاقوں میں آبادی والے علاقوں کو توپ خانے اور خودکار ہتھیاروں سے مسلسل نشانہ بنا رہی ہے۔اس سال، بھارت نے اب تک 1980 سے زیادہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا ہے، جس کے نتیجے میں 16 شہادتیں اور 161 بے گناہ شہری شدید زخمی ہوئے ہیں۔
دفتر خارجہ نے بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کی مذمت کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات 2003 کے سیز فائر معائدے کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ بھارت کا معصوم شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا قابل مذمت ہے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارت کی اشتعال انگزیزی خطے میں امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ بھارت ان حرکتوں سے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے دنیا کی توجہ نہیں ہٹا سکتا۔ بھارت اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنائے۔انہوں نے مزید کہا کہ نہتے شہریوں کو نشانہ بنانا عالمی قوانین، اقدار کے منافی ہے۔




































