
سکھر(ویب ڈیسک)جمعیت علما اسلام کے مرکزی امیر اور پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے
کہ پشاور واقعے پر دلی دکھ اور افسوس ہوا ، بزدلانہ واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ، دینی مدرسے میں چھوٹے بچوں کو نشانہ بنایا گیا، تمام شہدا ، ان کے ورثا اور زخمیوں کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں ، حکومت اور حکومتی ادارے اگر ہمیں تحفظ فراہم نہیں کرسکتے تو تمام مدارس اپنی سیکیورٹی کے انتظامات خود کریں۔ جو کہتے ہیں دہشت گردی ختم ہوگئی، پشاور دھماکہ ان کے منہ پرطمانچہ ہے۔
یہ بات انہوں نے منزل گاہ سکھر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر جے یوآئی کے صوبائی سیکرٹری جنرل مولانا راشد محمود سومرو، قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر مفتی اسعد محمود ، مولانا سعود افضل ہالیجوی، مولانا صالح اندھڑ ودیگر بھی موجود تھے،مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جو لوگ خوف و ہراس اور دھماکوں کی پیشن گوئیاں کرتے ہیں تو سب سے پہلے نظر ان کی طرف جائے گی ، یہ لوگ اس صورتحال میں اپنی کمزوری کا اظہار کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فرانس کے صدر کی ہدایات پر گستاخانہ خاکوں کو عمارتوں پر آویزاں کیا گیا، اس سے دنیا بھر کے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے جو کہ ایک جرم ہے، فرانس کو یاد دلانا چاہتا ہوں افغانستان میں طالبان کی حکومت کے دوران بامیان کے اندر بدھا کے بت کو توڑنے کی کوشش کی تھی، اس کے اگلے روز میری فرانس کے سفیر سے میری ملاقات طے تھی تو انہوں نے میری ملاقات منسوخ کردی تھی،۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکمران خود ایسا اقدام کرتا ہے تو وہ مسلمانوں کے خلاف اعلان جنگ کرتا ہے ، پاکستانی عوام فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں ، ایسے ممالک کے ساتھ تجارتی روابط ختم کردینا چاہیئں ، یہ لوگ مذہب کے حوالے سے بے حس ہوچکے ہیں ، کسی نبی بر حق کی توہین برداشت نہیں یہ سوچ عقل اور فلسفہ ہمیں قبول نہیں ہے۔





































