
کابل ( ویب ڈیسک ،فائل فوٹو) وزیراعظم نے کہا ہے کہ افغانستان میں امن خطے میں امن کی ضمانت ہے، مفاہتی
عمل میں پاکستان نے مثبت کردار ادا کیا، افغانستان میں تشدد کے خاتمے کیلئے توقعات سے بڑھ کر مدد کرےں گے ۔ مےرا ہمےشہ ےہی مو قف رہا کہ طاقت کسی مسئلے کا حل نہےں جبکہ افغان صدر اشرف غنی کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں تعاون علاقائی ترقی کیلئے ناگزیر ہے، بہتر مستقبل کیلئے دو طرفہ تعاون اور امن ضروری ہے افغانستان میں تشدد کے خاتمے کیلئے جنگ بندی چاہتے ہےں ۔ رسول پاک ﷺ کی حرمت ہر مسلمان کے اےمان کا حصہ ہے ۔ آزادی اظہار رائے کے حوالے سے منفی اور مثبت روےوں مےں تفرےق کر نا ضر وری ہے ۔
جمعرات کو افغانستان کے اےک روزہ دورے کے مو قع پر افغان صدارتی محل مےں افغان صدر اشرف غنی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزےر اعظم عمران خان نے کہا دورہ کابل پر بہت خوشی ہے، دورہ کابل کی دعوت پر افغان صدر اشرف غنی کا شکریہ ادا کرتے ہیں، دونوں ممالک کے تعلقات کا تاریخی پس منظر ہے، 60 کی دہائی میں کابل سیاحت کے لیے بہترین مانا جاتا تھا، پاکستان کی حکومت اور عوام افغانستان میں امن چاہتے ہیں، افغانستان میں امن کیلئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہیں۔
اس موقع پر افغان صدر اشرف غنی کا کہنا تھا وزیراعظم پاکستان کا دورہ تاریخی ہے، دونوں ممالک کے مفادات مشترکہ ہیں، دونوں ممالک کی ثقافت باہمی احترام پر مبنی ہے، پاکستان اور افغانستان میں تعاون علاقائی ترقی کیلئے ناگزیر ہے، بہتر مستقبل کیلئے دو طرفہ تعاون اور امن ضروری ہے، علاقائی روابط کا فروغ اور معاشی سرگرمیاں ہمارے مفاد میں ہےں
۔افغان صدر اشرف غنی نے کہا افغانستان میں تشدد کے خاتمے کیلئے جنگ بندی چاہتے ہیں، افغانستان میں امن کیلئے مثبت سیاسی عمل کے خواہاں ہیں، پاکستان کا جلد دورہ کروں گا۔ ان کا کہنا تھا آزادی اظہار رائے کے حوالے سے منفی اور مثبت رویوں میں تفریق ضروری ہے، رسول پاک ﷺ کی حرمت ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے، رسول پاک ﷺ کی ناموس تمام مسلمانوں کی عزت سے جڑی ہے۔ اس سے قبل صدارتی محل آمد پر عمران خان کا شاندار استقبال کیا گیا، چاق چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔ وزیراعظم نے افغان صدر کے ہمراہ گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا۔





































