
ڈھا کا ( ویب ڈیسک ،فوٹو فائل )بنگلا دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو انسانیت کے خلاف
سنگین جرائم کی مرتکب ٹھہراتے ہوئے سزائے موت سنائی ہے۔ جسٹس محمد غلام مرتضیٰ کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ کی جانب سے جاری کیے گئے 453 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں عدالت نے واضح کیا ہے کہ الزامات “ٹھوس اور معروضی شواہد” کی بنیاد پر ثابت ہوئے ہیں۔
عدالت کے مطابق ایک لیک آڈیو کال میں شیخ حسینہ نے مظاہرہ کرنے والے طلبہ کے خلاف سخت اقدامات اور حتیٰ کہ ان کو گولی مارنے کے احکامات جاری کیے تھے۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ طلبہ کے جائز مطالبات کو سننے اور مذاکرات کرنے کے بجائے ان کی آواز کو دبانے کے لیے طاقت کے استعمال کا رخ اختیار کیا گیا، اور یوں وہ ریاستی قوت کے زریعے تحریک کو کچلنے کی کوشش کر رہی تھیں۔
عدالت نے مزید نوٹ کیا ہے کہ شیخ حسینہ اور ان کے سابق وزیر داخلہ اسد الزماں خان کمال متعدد نوٹسز کے باوجود پیش نہیں ہوئے—اور ان کی غیر حاضری کو عدالت نے جرم کے اعتراف کے مترادف قرار دیا ہے۔ مقدمے کا ایک اور مرکزی ملزم المامون عدالت میں موجود تھا، اور انہوں نے جولائی کی سماعت کے دوران اپنا جرم تسلیم کیا تھا۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شیخ حسینہ نے حفاظتی اقدامات کرنے میں سراسر ناکامی کا مظاہرہ کیا، اور ان پر ڈرون، ہیلی کاپٹر اور مہلک ہتھیاروں کے استعمال کے ذریعے ریاستی طاقت کو مظلوم طلبہ اور شہریوں کے خلاف استعمال کرنے کی ہدایات دینے کا الزام ہے۔ادھر اس فیصلے کے دوران ملک بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ رہی، اور شیخ حسینہ کے گھر کے باہر ان کے حامی کارکنوں اور طلبہ نے احتجاج بھی کیا۔ یہ فیصلہ بنگلا دیش میں سیاسی کشیدگی اور ردِ عمل کے نئے سوالات کو جنم دے سکتا ہے۔





































