
تہران: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے، جہاں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان
جاری تنازع 28ویں روز میں داخل ہو گیا ہے۔ اس دوران ایران نے امریکی اور اسرائیلی اہداف کے خلاف عسکری کارروائیوں کی 83ویں لہر کا اعلان کر دیا ہے۔
ایرانی عسکری تنظیم اسلامک پاسدارانِ انقلاب گارڈز (آئی آر جی سی) نے جمعہ کی علی الصبح جاری بیان میں کہا ہے کہ “آپریشن وعدہ صادق 4” کے تحت حملوں کا نیا مرحلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق اس تازہ لہر میں امریکا اور اسرائیل کی اہم تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیل کے شہر اشدود میں آئل ڈپو اور اسٹوریج ٹینکس کو نشانہ بنایا گیا جبکہ موڈیعین کے علاقے میں فوجی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا۔ اس کے علاوہ خطے میں امریکی فوج کے انفارمیشن ایکسچینج سینٹر پر حملے کیے گئے، جن کا مقصد امریکی افواج کی آپریشنل صلاحیت کو محدود کرنا بتایا گیا ہے۔
مزید برآں متحدہ عرب امارات میں الظفرہ ایئر بیس، کویت کے علی السالم ایئر بیس میں طیاروں اور ڈرونز کے ہینگرز، اور بحرین کے شیخ عیسیٰ بیس پر پیٹریاٹ میزائل سسٹم کی مرمت گاہ کو بھی نشانہ بنایا گیا، ان حملوں کے باعث اسرائیل میں شہری زندگی شدید متاثر ہوئی ہے اور شہری مسلسل سائرن کے باعث پناہ گاہوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔
دوسری جانب اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایران پر حملوں کی شدت میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اسرائیلی فضائیہ نے قم میں تین رہائشی گھروں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 6 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئےجب کہ تہران میں کئی عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی توانائی تنصیبات پر ممکنہ حملے کو مزید 10 روز کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد نئی ڈیڈ لائن 6 اپریل 2026 مقرر کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ایران کی درخواست پر کیا گیا اور دونوں ممالک کے درمیان اہم مذاکرات مثبت انداز میں جاری ہیں۔
ادھر متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی میں بیلسٹک میزائل کے ملبہ گرنے سے ایک پاکستانی شہری سمیت دو افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔ اماراتی فضائی دفاعی نظام نے میزائل کو فضا میں ہی تباہ کر دیا تھا تاہم اس کا ملبہ سویجان کے علاقے میں گرنے سے جانی و مالی نقصان ہوا۔ حالیہ کشیدگی کے دوران امارات میں ہلاک ہونے والے غیر ملکیوں کی تعداد آٹھ ہو چکی ہے۔
ایرانی فوج کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک 800 امریکی فوجی ہلاک اور 5 ہزار زخمی ہو چکے ہیں جبکہ 1321 اسرائیلی فوجی بھی مارے جا چکے ہیں۔ ترجمان کے مطابق 17 امریکی فوجی اڈے مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں اور امریکی افواج کو پسپائی اختیار کرنا پڑ رہی ہے۔
امریکی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران کے حملوں کے بعد خطے میں موجود کئی امریکی فوجی اڈے شدید متاثر ہو کر ناقابلِ استعمال ہو چکے ہیںجس کے باعث بڑی تعداد میں امریکی فوجیوں کو ہنگامی طور پر ہوٹلوں اور دفتری عمارتوں میں منتقل کیا گیا ہے جب کہ زمینی افواج کو دور دراز سے کارروائیاں کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔
اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زمیر نے ملک کی دفاعی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ فوج اندرونی دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ متعدد محاذ کھلنے سے افرادی قوت میں کمی ہو رہی ہے اور ریزرو فوجیوں کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے، فوری اصلاحات نہ کی گئیں تو فوجی ڈھانچے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
جرمن وزیر خارجہ یوہان واڈے فیہول نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے بالواسطہ رابطے جاری ہیں اور دونوں ممالک کے نمائندوں کی جلد ملاقات متوقع ہے، جو ممکنہ طور پر پاکستان میں ہو سکتی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ اگر ایران اپنی دھمکیاں ختم کر دے تو آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولا جا سکتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ عالمی تجارت کے لیے اس اہم گزرگاہ میں خلل ڈالنا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے جبکہ یوکرین جنگ میں امریکا نے سب سے زیادہ کردار ادا کیا ہے۔





































