
اسلام آباد(ویب ڈیسک)قومی احتساب بیورو (نیب)کے چیئرمین جسٹس(ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ بدعنوانی سرطان ہے
جو ملک کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ نیب بلاتفریق آہنی ہاتھوں سے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے پرعزم ہے۔
یہ بات انہوں نے نیب ہیڈ کوارٹرز میں منعقدہ 15 روزہ کارکردگی کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ قومی احتساب بیورو نے بدعنوان عناصر سے 328ارب روپے برآمد کرکے قومی خزانہ میں جمع کرائے، کسی بھی نیب اہلکار نے ایک پائی نہیں لی کیونکہ بدعنوانی کے خاتمہ کو وہ قومی فریضہ سمجھتے ہیں، انہوں نے تمام ڈائریکٹر جنرلز کو ہدایت کی کہ تمام بدعنوانی کے مقدمات کو میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر قانون کے مطابق نمٹایا جائے۔
اجلاس کے دوران نیب کے علاقائی بیوروز اور نیب ہیڈ کوارٹرز سمیت آپریشن، پراسیکیوشن اور آگاہی و تدارک ڈویژن کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور نیب کی کارکردگی کو مزید مو ثر اور بہتر بنانے کے نیب انتظامیہ کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا اور ان اقدامات پر اصل رو کے مطابق عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔
انہوں نے کہا استغاثہ کیلئے بھی اہداف مقرر کئے گئے ہیں اور ان کوششوں کے نتائج احتساب عدالتوں میں سزاں کی 70 فیصد شرح کی صورت میں آ رہے ہیں۔ قومی احتساب بیورو اطلاق کی سوچ پر عمل پیرا ہوتے ہوئے بدعنوانی کے مضر اثرات سے بڑے پیمانے پر عوام الناس کو آگاہی فراہم کرنے کی سرگرمیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔




































