
لاہور(ویب ڈیسک )سربراہ کورونا ٹاسک فورس ڈاکٹر عطا الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان میں ویکسین 6 سے 8 ماہ میں دستیاب ہوگی
پاکستان میں دو چینی کمپنیاں جلد انسانوں پرٹرائل شروع کررہی ہیں۔ ان ویکسین کے ٹرائل کے نتائج کیلئے مزیدتین ماہ انتظار کرنا پڑے گا، دسمبرمیں ٹرائلزکے نتائج آئیں گے، اس کے بعد ویکسین کے کامیاب ٹرائل بارے کچھ کہا جاسکتا ہے۔
سربراہ کورونا ٹاسک فورس نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ دنیا میں 150کمپنیاں ویکسین بنا رہی ہیں، ان میں 50 ایسی کمپنیاں ہیں جن کی ویکسین کی کے کلینکل ٹرائل کا مرحلہ جاری ہے، کورونا کی ساخت کو دیکھ کر ویکسین بنانے کے مختلف طریقے ہیں۔ پاکستان میں ابھی تک کسی بھی شہر میں ٹرائل شروع نہیں ہوئے، ٹرائل جلد شروع ہونے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں ٹرائل کے نتائج کیلئے تین مہینے مزید انتظار کرنا پڑے گا۔دسمبر تک ان ٹرائلزکے نتائج کے بارے حتمی کہنا غلط ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کا اب بھی بڑا خطرہ ہے، کورونا اپنی شکل تبدیل کررہا ہے،۔
کراچی یوینورسٹی میں اس کی ساخت پر ریسرچ کی گئی ہے تو پتا چلا ہے کہ کورونا وائرس ہر دو تین ہفتے بعد اپنی شکل تبدیل کررہا ہے، اس کی خطرناک صورتحال ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے ہفتوں میں کیسز کم تھے لیکن اب تعداد بڑھ کر واپس 600 یا 700 تک ہوچکی ہے۔




































