
کراچی ( رنگ نوڈٖاٹ کام ) الائنس آف پرائیویٹ اسکولز سندھ کے تحت منعقدہ کانفرنس مطالبہ کیا گیا ہے کہ
حکومت چھوٹے نجی تعلیمی اداروں کو درپیش بجلی،ایس بی سی اسے،ای اوبی آئی سمیت دریگر درپیش مسائل فوری حل کرے اوران کے مستقبل کو تباہی سے بجائے ،جبکہ بجلی کے کمرشل بھاری بلز سے نجات دلانے کیلئے انہیں سولر سسٹم فراہم کرے۔
تقریب سے بطو ر مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے چیئر مین ثانوی بورڈ پروفیسر ڈاکٹر سعید الدین نے اعتراف کیا ہے کہ نجی تعلیمی ادارے کراچی سمیت سندھ میں معیاری تعلیم فراہم کررہے ہیں اورانہیں بجلی ،کے بی سی اے ،ای اوبی آئی سمیت دیگر مسائل کا سامنا ہے ،ان مسائل کو حل ہونا چاہیے ،مسائل حل نہ ہوئے تو تعلیمی عمل متاثر ہوگا۔
کانفرنس سے چیئر مین الائنس علیم قریشی ،سیکریٹری حنیف جدون سینئر وائس چیئر مین شاہد خمیسہ ،سیکریٹری فنانس عبدالواہاب ،وائس چیئرمین انتخاب عالم سوری ودیگر نے بھی خطاب کیا۔تقریب میں شکیب شیخ ،نجی اسکولوں کے سرابراہان اوراسکول ایسوسی ایشنز کے نمائندگان نے بھی شرکت کی۔جبکہ دونجی کمپنیوں سے والے معاہدوں پر بھی دستخط کیے گئے۔
کانفرنس میں بورڈ کی جانب سے نجی اسکولز کے پرنسپل کو نویں کلاس کے طلبہ کی آن لائن انرولمنٹ سسٹم سے متعلق ملٹی میڈیا بریفنگ دی گئی۔
پروفیسر ڈاکٹر سعید الدین نے کہا کہ میٹرک بورڈ تعلیمی اداروں کی مشکلات کو حل کرنے کیلئے نویں کلاس کی انرولمنٹ کیلئے آن لائن نظام متعارف کروارہا ہے جس سے تعلیمی ادار ے اب اپنے بچوں کی انرولمنٹ آن لائن سسٹم کے ذریعے کر سکیں گے۔تعلیمی ادارے اس سسٹم سے بورڈ سے رابطے میں رہیں گے ،ڈیٹا کے ذریعے میٹرک کی انرولمنٹ میں آسانی ہوگی۔
پروفیسر ڈاکٹر سعیدالدین نے کہا کہ معاشرے میں اعتماد کی کمی ہے ،اساتذہ ،طلبہ اورتعلیمی اداروں اوروالدین کے ایک دوسرے پر اعتماد کو بڑھاناہوگا ،انہوں نے کہا کہ نجی تعلیمی ادارے بچوں کی بہتر ین تعلیمی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے اساتذہ کو تربیت کے جدید تقاضو ں سے آراستہ کریں ،اسکولز اوربوڈز کے درمیان رابطوں کا فقدان ہے ،رابطوں کو بڑھانا ہوگا ،تاکہ اسکولز کو درپیش مسائل حل ہوسکیں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب اوردیگر صوبوں میں میٹرک میں 1100نمبر ہیں جب کہ سندھ میں 850نمبر ہیں کوشش کر رہے ہیں کہ سندھ میں بھی 1100نمبر کیے جائیں۔
انہوں نے کہا اسکولوں کے بورڈز سے متعلق معاملات کو حل کیا جائے گا ,تاہم ضروری ہے کہ اسکولز سسٹم کو فالو کریں۔
چیئر مین الائنس علیم قریشی نے علم کی اہمیت بیان کی اور قرآنی آیات اوراحادیث مبارکہ کی روشنی میں علم کی اہمیت کو تفصیلی طور پر بیان کی ،انہوں نے کہا تعلیمی اداروں کے سربراہان سے کہا کہ تدریس ،فنون مہارت پیدا کرنا اورتربیت یہ تینوں عناصر کسی ادارے میں موجود نہیں تو بچے کی اچھی تربیت نہیں ہوسکتی، 
انہوں نے کہا کہ ملک میں تین بورڈزکام کررہے ہیں ،لیکن میٹرک بورڈ اچھی تعلیم دے رہا ہے،چیئر مین کی کاوشوں سے میٹرک کے امتحانات میں نقل کا خاتمہ ہوا ہے ،انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں سے متعلق منفی پروپیگنڈا سازش ہے ، تعلیمی ادارے بچوں کی اچھی تربیت کریں۔اپنے اوربچوں کے مستقبل کو بچائیں۔
سیکریٹری حنیف جدون نے کہا کہ دنیا بھر میں تعلیم کیلئے فنڈنگ کی جاتی ہے مگر پاکستان میں صورتحال مختلف ہے۔تعلیمی اداروں کیلئے مشکلات پیدا کی جارہی ہیں ،تعلیمی اداروں کو متحد ہونا پڑے گا۔
سینئر وائس چیئرمین شاہد خمیسہ نے کہا کے ایس بی سی اے کی جانب سے اسکولوں کو نوٹسز آرہے ہیں ،کہا جارہا ہے اسکول 400گزپر ہونا چاہئے جو ہمیں قابل قبول نہیں ،جبکہ اسکول ایسی سڑک پر ہونے کی شرط عائد کی جارہی ہے جو 60فٹ ہو ،شاہد خمیسہ نے کہا کہ مسائل کے حل کیلئے عدالت جانا ہوگا ،اس کیلئے سب کو متحد ہونا پڑے گا۔
وائس چیئر مین انتخاب عالم سوری نے کہا مختلف ادارے اسکولوں کیلئے مسائل پیدا کررہے ہیں اسکولوں کو مہنگی بجلی ،ایس بی سی اے ودیگر مسائل کا سامنا ہے۔
تقریب میں عبدالوہاب نے قرارداد پیش کی جس کہاگیا کہ کے الیکٹرک کے ٹیرف بل،مئی جون کی فیسیں مئی جون میںوصولی،تعلیمی عمل میں بیرونی این جی او کی مداخلت اورتعلیم دشمن پالیساں قبول نہیں ،قرارداد کو تما م شرکا نے ہاتھ اٹھا کر پاس کیا ۔




































