
اسلام آباد(تعلیم ڈیسک ) وزارت تعلیم نے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آ باد میں رواں سال سردیوں کی چھٹیوں میں بھی تعلیمی
سرگرمیاں جاری رکھی جائیں گی جبکہ تعلیمی اداروں کیلئے ہفتہ وار تعطیل ختم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے ۔
وفاقی وزارت تعلیم کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق وفاقی نظامت تعلیمات (ایف ڈی ای) اسلام آباد کے تمام تعلیمی اداروں کے سربراہان کو طریقہ کار اپنانے کا پابند کرے۔ ایف ڈی ای تعلیمی اداروں کے سربراہان کوادارے کھولنے سے متعلق حکمت عملی تیار رکھنے کی ہدایت کرے۔
وفاقی وزا رت تعلیم اعلامیہ کے مطابق اسلام آ باد کے تعلیمی اداروں میں ہفتے کے روز بھی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھی جائیں گی. تعلیمی ادارے کھلنے کے بعد طلبا کی آسانی کے مطابق آئندہ کا لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔وزارت تعلیم کے مطابق طلبا کا تعلیمی سال ضائع ہونے پر حکمت عملی کو آئندہ سال بھی اپنانے پرغور کیا جائے گا۔ وفاقی وزارت تعلیم کے حکام کا کہنا ہے کہ فیصلہ تعلیمی سال کے دوران ہونے والے نقصان کے ازالہ کیلئے لیا گیا ہے۔ اساتذہ ہفتے کے روز تعلیمی لحاذ سے کمزور طالب علموں کو خصوصی تیاری کروائیں گے۔
میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات 15 روز کی تاخیر سے لیے جائیں گے۔ اس حوالے سے باقاعدہ احکامات بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔ وفاقی نظامت تعلیم کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں جبکہ تعلیمی اداروں کے سربراہان کو ہدایت کی گئی ہے کی تعلیمی کلینڈر کے مطابق فریم ورک تیار کریں۔ مزید کہا گیا ہے کہ جبکہ 15 ستمبر سے تعلیمی ادارے کھولنے کیلئے پر امید ہیں۔ خیال رہے کہ اس سے قبل وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ ملک بھر میں تعلیمی ادارے کھولنے کا حتمی فیصلہ 7 ستمبر کو کریں گے۔
اسلام آباد میں معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شفقت محمود نے کہا کہ کورونا کیسز میں کمی آرہی ہے۔ 6 ماہ سے تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ کورونا کی وجہ سے تعلیمی شعبے پر مرتب اثرات کا اندازہ ہے۔وفاقی وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ تعلیمی ادارے کھولنے سے متعلق مختلف تجاویز زیرغور ہیں۔ 15 ستمبر سے میٹرک اور اسے اوپر کی کلاسز کا آغاز کرنے کی تجویز ہے۔ مڈل کلاسز 21 اور پرائمری 30 ستمبر سے شروع کرنے کی تجویز ہے۔شفقت محمود نے کہا کہ ملک میں کورونا ابھی ختم نہیں ہوا، ایس اوپیز پرعملدرآمد یقینی بنانا ہوگا۔ تعلیمی اداروں میں ایس او پیز پرعمل درآمد یقینی بنانا ہوگا





































