
کراچی ( نمائندہ رنگ نو) الائنس آف پرا ئیویٹ اسکولز سندھ نے وزیر تعلیم سندھ سعید غنی کی جانب سے
نجی تعلیمی اداروں میں تدریس کیلئے کلاسز کی مختلف تاریخوں کے اعلان کو مستردکرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ تمام کلاسز کا آغاز 15ستمبر سے کیا جائے اور اس کیلئے فوری نوٹیفکیشن جاری کیا جائے ۔
الائنس کے چیئر مین علیم قریشی ،جنرل سیکریریٹری حنیف جدون اور وائس چیئر مین شاہد خمیسہ ودیگر نے کہا ہے کہاکہ اسکول کی کلاسز کو مختلف تاریخوں میں کھولنے کا اعلان تعلیم اوروالدین پر ظلم ہے ۔یہ بات انہوں نے جمعہ کو اپنے مشترکہ جاری بیان میں کہی ۔
علیم قریشی نے کہا کہ تعلیمی ادارے گزشتہ 7ماہ سے سخت ترین حالات سے گزر رہے ہیں۔ملک میں کورونا وائرس کی صورت حال اب بہتر ہے۔تمام ادارے معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔پارکس ،شادی ہال کھل چکے ہیں ،لیکن اسکولز کو بند رکھ کر تعلیم کے ساتھ تعلیمی اداروں ،طلبہ اور اساتذہ پر ظلم کیا جار ہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نجی تعلیمی ادارے حکومت سندھ کی جانب سے جاری ایس اوپیز پر عمل درآمد کیلئے تیار ہیں ،لیکن ہمارا مطالبہ ہے کہ تمام کلاسز میں تدریسی عمل ایک ساتھ شروع کیا جائے ۔حنیف جدون نے کہا کی ،بہت سے طلبہ اسکولز کی بندش کی وجہ سے اسکولزچھوڑچکے ہیں ۔والدین فیسیں ادا کرنے کیلئے تیار نہیں ۔صورتحال سے اسکولز مالکان بددل ہیں ،جبکہ حکومت کی جانب سے تاحال اسکولز نہ کھولنا سمجھ سے بالا تر ہے ۔
شاہد خمیسہ نے کہا کہ وزیر تعلیم سندھ کا فیصلہ اسکولز مالکان کو احتجاج کی نئی راہ دکھا رہا ہے ۔وہ اپنا فیصلہ معطل کرتے ہوئے 15ستمبر سے تمام اسکول اور کلاسز ایک ساتھ شروع کرنے کا اعلان کریں اور اس کیلئے فوری نوٹیفکیشن جاری کریں ۔





































