
کراچی (نمائندہ رنگ نو) الائنس آف پرائیویٹ اسکولز سندھ کے چیئر مین علیم قریشی ،سیکریٹری جنرل حنیف جدون نے کہا ہے کہ حکومت سندھ کی جانب سے پانچویںسے آٹھویں
کلاس میں تدریس کا دوسرا فیز موخر کرنے کا فیصلہ مسترد کرتے ہیں اوروزیر تعلیم سعید غنی کے اس فیصلے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور ان کے فوری استعفے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
بہفتے کو جاری اپنے ایک بیان مین ان کا کہناتھا کہ وزرائے تعلیم کانفرنس میں15ستمبر سے نویں ،دسویں کلاس 21ستمبرسے پا نچویں سے آٹھویں کلاس کی تدریس کا عمل اورپرائمری کلاسز کی تدریس 28ستمبر سے شروع کرنے کا اعلان کیا تھا جبکہ وفاقی حکومت اور NCOC کے تحت کئے گئے فیصلے جس میں تمام اسکولوں میں تدریس کا عمل 15ستمبر سے مرحلہ وارشروع کرنے کا کہا تھا ،مگر ان فیصلوں سے انحراف کیا جا رہا ہے ۔
انہوں نے کہا وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے بھی 21ستمبر سے اسکول کھولنے کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے اور 21ستمبرسے کلاسز شروع کر نے کا واضح اعلان کیا ہے۔ اس کے بعد وزیر تعلیم سندھ سعید غنی کے پاس کلاسز شروع نہ کرنے کا کوئی جواز نہیں ۔
علیم قریشی نے کہا کہ فیصلے سے طلبہ والدین اور اساتذہ میں مایوسی بھیلی ہے ۔انہوں نے کہا کہ نجی تعلیمی ادارے ساڑھے 6ماہ میں شدید مصائب کا شکار ہوئے ہیں ،والدین بچوں کی فیسیں دا کرکے کو تیار نہیں ۔اسکولز پر معاشی بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔تعلیمی عمل کو بند رکھ کر طلبہ ،اساتذہ اور والدین کو مشکلات میں مبتلا کیا جا رہا ہے ۔
حنیف جدون نے کہاکہ کورونا کی وبا میں کمی کے بعد ملک کے تمام ادارے معمول پر آگئے ہیں ،۔اسکولوں میں تمام کلاسز فوری طور پر کھول دی جائیں ۔علیم قریشی نے مطالبہ کیا کہ نجی تعلیمی اداروں کو معاشی تباہی سے بچانے کیلئے بلاسود اور فوری قرضے دیئے جائیں ۔
علیم قریشی نے کہا کہ ہم بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعلیٰ سندھ سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ سندھ حکومت کے پچھلے فیصلوں پر عمل درآمد کروائیں اور اسکولز میں شروع ہونے والے تدریسی عمل کو چند ایک شکایات پر مکمل بند نہ کریں۔
علیم قریشی نے کہا کہ اس بات کو بھی مد نظر رکھیں کہ ایک بڑی تعداد میں اسکولز SOPs کی سختی سے پابندی کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چھٹی سے آٹھویں کلاس کی تدریس کا آغاز وفاق کے اعلان کے عین مطابق 21ستمبر بروز پیر سے کیا جائے۔





































