
کراچی ( نمائندہ رنگ نو ڈاٹ کام ) آل پاکستان پر ائیویٹ اسکولز فیڈریشن اور اتحادی الائنس آف پرائیویٹ اسکولز سندھ
نے کہا ہے تعلیم دشمن وزیر تعلیم سندھ سعید غنی کی پالیسی این سی اوسی کے اور دیگر صوبوں سے متصادم ہے ،سندھ حکومت انہیں فوری طور پر برطرف کرے ۔ تعلیمی عمل کے دوسرے مرحلے کوفوری شروع نہ کیا گیا توسندھ بھر میں احتجاج کریں گے۔
کراچی پر یس کلب میں پریس کانفرنس سے خطا ب کرتے ہوئے آل پاکستان پر ائیویٹ اسکولز فیڈریشن کے صدر اختر آرائیں اورالائنس آف پرائیویٹ اسکولز سندھ کے چیئر مین علیم قریشی نے تعلیم وتدریس کا سلسلہ بند کرنے کے بجائے میکرو لاک ڈاو¿ن کا آپشن استعمال کیا جائے ۔ملک میں اکا دکا کورونا کیسزکے باعث 4لاکھ تعلیمی ادارے بند نہیں کیے جاسکتے ۔
اختر آرائیں نے کہا کہ سرکاری اسکولز میں زیر تعلیم 2.5کروڑطلبہ وطالبات ہمارے بچے ہیں ۔ایس اوپیز پر عمل درآمد کیلئے پچاس ارب روپے درکا ہیں فوری فراہم کیے جائیں ۔انہوں نے کہا کہ جو اسکولز ایس او پیز پر عمل درآمد نہیں کررہے ان کیخلاف کارروائی کی جائے ،اس ضمن میں ہم آپ کے ساتھ تعاون کیلئے تیار ہیں ۔
علیم قریشی نے کہا کہ وزیر تعلیم کے سندھ میں تعلیمی عمل کے دوسرے مرحلے کو روکنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہیں اور اس کی مذمت کرتے ہیں ۔ایک دو اسکولز نے اگر ایس او پیز کی خلاف ورزی کی ہے تو اس کی سز سب کو نہیں دی جا سکتی ۔بچوں کی صحت ،تحفظ اور تعلیم ہماری اولین ترجیح ہے ۔علیم قریشی نے تجویز کیا کہ اسمارٹ نصاب کے بجائے 9,9ماہ کے دو تعلیمی سیشنز کے ذریعے طلبہ کے تعلیمی نقصان کو پورا کیا جا سکتا ہے ۔علیم قریشی نے کہا تعلیمی عمل کے دوسرے مرحلے کوفوری شروع نہ کیا گیا توسندھ بھر میں احتجاج کریں گے۔





































