
مجاہد عالم ندوی/ بہار انڈیا
فلسطین میں ظلم و بربریت کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ آئے دن کوئی دل خراش منظر دیکھنے کوملتا ہے اوررات فلسطینی مظلوموں کی بے بسی کا سوچتے
گزر جاتی ہے۔ یہ سب جرمِ ضعیفی کا شاخسانہ ہےکہ آپ کمزور ہیں تو آپ مظلوم ہیں اورآپ کی شنوائی نہیں ہو سکتی۔ آپ کمزور ہیں توآپ کو دنیا کے انصاف اور قانون کے رکھ والوں کی طرف سےایک ٹکا سا جواب ملے گا جس میں واضح پیغام ہوگا کہ آپ غیراہم ہیں اورغیراہم کے لیے نہ صرف طاقتور دنیا کی اخلاقیات کا معیارمختلف ہوتا ہے بلکہ حقوق کا سانچہ بھی طاقت رکھنے والوں کی منشا کے مطابق ہوتا ہے۔ آپ بھلے بین الاقوامی قوانین کی رائج اخلاقیات کےتحت راست موقف بھی اختیار کیےہوں لیکن اگرآپ کمزورہیں تو آپ کے لیے ضابطہ اخلاق کی شرائط دنیا میں رائج نظام میں طےکی گئی ہیں اوروہ آپ کی حیثیت کےمطابق ہوں گی۔
اگرآپ کمزورہیں تو اِس کا ہرگزمطلب یہ نہیں کہ آپ کے حقوق بھی ان ہی انسانوں جیسےہیں جو مغرب اور امریکہ میں سکونت اختیار کیے ہوئے ہیں۔ آپ کمزورہیں تو آپ کا حق تو کیا آپ کا اپنا نقطہ نظر بھی نہیں ہوسکتا ، لیکن اگر آپ طاقتور ہیں تو دنیا کا سارا نظام آپ کے لیے بروئے کار لایا جاسکتا ہے اور دنیا آپ کے ساتھ کھڑی نظرآئےگی ، بھلے آپ کا موقف بین الاقوامی اخلاقیات کی صریحاً خلاف ورزی ہی کیوں نہیں ہے لیکن دنیا پھر بھی آپ کی ہاں میں ہاں ملاتی چلی جائےگی ۔
غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے،وہ ساری دنیا دیکھ رہی ہے،عورتیں بچے اور بوڑھے لوگ اس ننگی بربریت کا نشانہ بن رہےہیں ،دنیا اس جدید دور کا سب سے بڑاانسانی حقوق کا المیہ اپنی آنکھوں کے سامنے وقوع پذیر ہوتا دیکھ رہی ہے ، جہاں ہر آٹھ منٹ میں ایک فلسطینی بچہ مارا جا رہا ہے اور شاید اسی تناسب سے عورتیں بیوہ ہورہی ہیں اورمرد مارے جارہے ہیں یا مستقل طور پر معذور ہو رہے ہیں ۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کی بے بسی دیکھیے کہ وہ فلسطین کو زمین پر جہنم قرار دے رہےہیں مگر وہ مظلوم فلسطینیوں کےلیے کچھ کرنہیں سکتے اور نہ ہی تین ملین سے زائد فلسطینیوں کو خوراک ، پانی اور بجلی سے محروم رکھنے اور دنیا بھرسے آنے والی امداد کو روکنے کے جنگی جرم کا مرتکب ہونے والے اسرائیل کا محاسبہ کر سکتے ہیں۔اگرسی این این کے اعداد و شمار کو ہی سچ مان لیا جائے تو غزہ میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد گیارہ ہزارسے تجاوز کر چکی ہے جن میں ستّر فیصد سے زیادہ بچے،خواتین اور بوڑھے شامل ہیں جب کہ تقریباً چار ہزارافراد زخمی ہو چکے ہیں۔
اسرائیل کے حملوں میں پناہ گزین کیمپوں اور ہسپتالوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے جو سنگین جنگی جرائم میں شمار ہوتا ہے ۔ فلسطینی حکام کے مطابق غزہ کے ساٹھ فیصد سے زائد اسپتال اور طبی مراکز وحشیانہ بمباری سے تباہ اور ناکارہ ہو چکے ہیں اور کسی قسم کی سروسز کے اہل نہیں ہیں ، دنیا کیوں اندھی اور بہری ہو چکی ہے کہ انہیں دکھائی اور سنائی نہیں دے رہا کہ غزہ میں نہ ہسپتال محفوظ ہیں، نہ مسجد محفوظ ہے اور نہ ہی چرچ محفوظ ہے ۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے لیے شاید یہ بھی مشکل ہےکہ وہ اسرائیل کی سرِ عام پشت پناہی کرنے والی سرکردہ عالمی طاقتوں جن میں امریکہ ، برطانیہ ، یورپی یونین اور ان کے حواری سرفہرست ہیں کو یہ بتا سکیں کہ وہ معصوم فلسطینیوں کےساتھ ایسی ناانصافی نہیں کر سکتےاور اپنا اخلاقی اور قانونی وزن دہائیوں سےمعصوم لوگوں پر ظلم کرنے والے ظالم کے پلڑے میں نہیں ڈال سکتے۔
دنیا میں انسانوں کے حقوق کی بات کرنے والے لوگوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے ، عالمی ضمیر کے لیے ایک جواب طلب سوال ہے کہ ایک ماں اپنے شہید بیٹے کو مسکراتے ہوئے کیسے دفن کرتی ہے اور اس میں ایسی طاقت کہاں سے آجاتی ہے؟ لوگوں کو جگہ جگہ جدید گولہ بارود کی تباہ کاریوں سے متاثر فلسطینیوں کی لاشوں اور کٹے پھٹے جسموں کے مناظر کیوں نظر نہیں آ رہے ہیں؟ اِس بے بسی اور خوف کے عالم میں مائیں اپنے قتل کیے گئے بچوں کا ماتم کیسے کرتی ہوں گی ، جو غزہ میں ہو رہا ہے وہ کون بیان کر سکتا ہے ، ایک سوچا سمجھا قتل عام جس میں بچوں کو جلایا گیا ، حاملہ خواتین کو نشانہ بنایا گیا اور محفوظ قرار دیے گئے مقامات پر بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے بمباری کی گئی ۔
جنگ تو کئی دہائیوں سے جاری تھی لیکن جس طرح کےاجتماعی عذاب کا شکار غزہ کے لوگ اس بار ہوئے شاید پہلے کبھی نہ ہوئے، بچے روز مارے جا رہے ہیں ، خواتین بمبوں سے گرائی عمارتوں کے ملبے تلے دبی اپنے بچوں کو دیکھتی دیکھتی مر جاتی ہیں ، اور معصوم بچے اپنی ملبے تلے دبی ماؤں کی لاشوں کے ہاتھ تھامے رہ جاتے ہیں ،غزہ سے تسلسل کے ساتھ آنے والی تصویریں دیکھیں اور اور خبریں سنیں گے تو آپ کو لگے گا کہ اس دنیا میں صرف ظالم کا واحد ہتھیار طاقت ہے اور وہ ہر صورت اس ہتھیار کو بلا تفریق استعمال کرکے اپنا غلبہ چاہتا ہے ۔
اسلامی دنیا میں غم و غصہ ہے ، کثیر تعداد میں مسلمان فلسطینیوں کےساتھ کھڑے ہیں اور اسرائیل کے رویے پرتلملا رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اسلامی دنیا کے رہنما صرف زبانی مذمت و ہمدردی تک محدود نہ رہیں بلکہ فلسطینی مسلمانوں کے لیے واضح اقدامات کریں ، لیکن شاید اسلامی ممالک کے حکمرانوں کی ترجیحات میں فلسطینی مسلمان نہیں ہے ، اب کیا امر مانع ہے کہ اِس درجہ بربریت کے باوجود نہ صرف اسلامی دنیا کے حکمران چپ سادھے بیٹھے ہیں بلکہ انسانی حقوق ، بین الاقوامی قانون کی حکمرانی ، جمہوریت اور انصاف کی عالمی اقدار کی علمبردار بین الاقوامی تنظیمیں اور انسانی حقوق کے ادارے بھی خاموش ہیں ۔
اسرائیل نے عالمی قیادت کی منافقت کو سرِ عام بے نقاب کر دیا ہے، دنیا جنگی جرائم کے حوالے سے روس یوکرین میں جاری کشمکش پر مختلف موقف اختیار کیے ہوئے ہیں اور فلسطین اور کشمیر کے بارے میں یکسر مختلف موقف اختیار کیے ہوئے ہیں ، اور کوئی بھی عالمی طاقت اپنے مفاد سے بالا نہیں سوچ رہی ، عالمی غم و غصے نے مسلم دنیا کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔
چند مستثنیات کےساتھ مسلم رہنماؤں اور حکومتوں کا رد عمل شرمناک حد تک مایوس کن رہا ہے اور واضح دکھائی دے رہا ہے کہ بیشتر مسلمان ممالک فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہونے کو تیار نہیں ہیں ، او آئی سی اور عرب لیگ کا مشترکہ اجلاس بھی ہو چکا ہے اور ایک اعلامیہ بھی جاری ہو گیا ہے ، اعلامیے میں غزہ کا محاصرہ ختم ، انسانی امداد کی فراہمی اور اسرائیل کو ہتھیاروں کی برآمدات روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے ، اعلامیے میں اسرائیلی قابض حکومت کی جارحیت ، جنگی جرائم اور غیر انسانی قتلِ عام کی شدید مذمت کی گئی ہے ۔اعلامیے میں اہم بات یہ ہے کہ اسرائیل کے خلاف تادیبی ، معاشی اور سیاسی اقدامات پر اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا۔ اِس صورتحال میں اِس طرح کا موقف نہ صرف نا کافی ہے بلکہ اس کا کوئی خاطر خواہ فائدہ نہ ہوسکے گا ۔
دنیا میں طاقت کے توازن کے فلسفے کا ادراک رکھنے والے اہل دانش جانتے ہیں کہ طاقت کا سکہ بٹھانے کے لیے طاقت ہی بروئے کار لائی جاتی ہے ، مطالبہ اور مذمت جرمِ ضعیفی کا اظہار ہیں ، جس خطے میں فلسطینی لہو بہہ رہا ہے وہاں فلسطین اور اسلامی دنیا کے سیاسی مقاصد ہیں اور اسرائیل اور اس کے پشت پناہی کرنے والی طاقتوں کے سیاسی مقاصد ہیں ۔اپنے مقاصد کے حصول کے لیے اسرائیل اور اس کے حواری کسی بھی حد تک جانے کے لیے پُر عزم دکھائی دے رہے ہیں اور طاقت بروئے کار لا رہے ہیں جبکہ اسلامی دنیا اپنے مطالبات اور مذمتی قراردادوں کے ساتھ جرمِ ضعیفی کی تصویر بنی بیٹھی ہے ۔





































