
نزہت ریاض/ حریم ادب
جماعت اسلامی خواتین شعبہ نشرواشاعت ضلع وسطی کےتحت مرکزالفلاح میں پروگرام کاانعقاد کیا گیا،جس کا موضوع تھاحجابی تہذیب اوربدلتی اقدار"ٓموضوع کے حساب
سے تقاریر،لیکچر،اشعار،کہانیوں اورپوسٹرزبنانےپرانعامات بھی رکھےگئےتھے ۔
پروقار تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا۔ جس کے بعد حمد باری تعالیٰ پیش کی گئی اور پھرجماعت اسلامی خواتین کا نیا ترانہ "تہذیب ہےحجاب تہذیب ہےحجاب سنا گیا۔م یزبانی کےفرائض نگراں نشرواشاعت وسطی شہلاخضر نے انتہائی خوش اسلوبی سے نبھائے۔
سب سے پہلےخطاب کی دعوت سینئرمینجر ریسرچ اینڈ ڈیولیپمنٹ ڈپارٹمنٹ آف عثمان پبلک اسکول نزہت منعم صاحبہ کو دی گئی ۔ انہوں نے خاص طور پر نوجوان نسل کی بچیوں کومخاطب کرتے ہوئے سوال کیا کہ آپ لوگ بتائیں کہ أج کےامت مسلمہ کو اس فتنے کے دور میں کن چیلنجز کاسامنا ہے؟ بچیوں نے مختلف جواب دیئےاور پھرانہوں نے خود بھی جواب دیا کہ دین سےدوری اس وقت سب سے بڑا چیلنج ہے۔آخرت اوراللہ کا خوف ختم ہورہا ہے۔دنیا کی محبت کو اپنے دلوں سے ختم کرناہی آج امت مسلمہ کے لیے چیلنج ہے۔
نزہت منعم کےخطاب کےبعد ضلع وسطی کی بچیوں کو تقاریرکرنےکی دعوت دی گئی جس میں شادمان سےعبیرہ نایاب علاقہ فاروق اعظم سےبریرہ اسامہ ،علاقہ پہاڑ گنج سے ایک بہت ہی چھوٹی بچی جس کی عمربمشکل سات یا اٹھ سال ہوگی نے اپنی پرجوش تقریرسےسب مہمانوں کی داد سمیٹی۔ علاقہ گلبہارسے رابعہ سلیم شادمان سےلائبہ عارف اورعلاقہ گلبہارسےہی سدرہ سلمان نے موضوع کی مناسبت سی تقاریر کیں۔
اسی طرح تقریب میں موجود مہمانان خصوصی نےمقابلوں میں حصہ لینے والی بہنوں میں انعامات تقسیم کیے۔پوسٹر بنانےپراول انعام حمنہ انصاری،دوسراانعام اریبہ اور تیسرا انعام مریم حفیظ کو دیا گیا۔اسی طرح کہانی نویسی میں پہلاانعام راحیلہ جمشید ،دوسراانعام نزہت ریاض اورتیسرا انعام ماہ نور شاہد کو دیا گیا۔تقریری مقابلے میں پہلا انعام عریبہ بانو، دوسرا انعام عبیرہ اورتیسرا انعام حمیرا ناز کو دیا گیا ۔
تقریب کےاختتام پرنائب ناظمہ ضلع وسطی روبینہ نعیم نے دعا کراوئی اورتمام مہمانوں کی تواضع ریفریشمنٹ سے کی گئی،یوں ایک پر وقارتقریب اختتام پزیر ہوئی۔





































