
نزہت ریاض
جب کراچی پر کوئی نئی زیادتی ہوتی نظرآتی ہے،دل بے چین ہو جاتاہے۔قلم اٹھانے کے لیےسمجھ میں نہیں آتا یتیم شہر کی کس کس پریشانی پر قلم اٹھایا
جائے ۔ کیا ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پرسفر کرکے بیمارہوتےعوام پر۔۔۔۔۔ جی ہاں ایک سروے رپورٹ کے مطابق کراچی کے نوجوان پورے ملک کی نسبت سب سے زیادہ کمردرد کا شکار ہو رہے ہیں کیونکہ یہ نوجوان روزانہ ان ہی تباہ حال سڑکوں پراسکوٹروں پر حصول اور تلاش معاش کے لئے نکلتے ہیں اور کمر کے درد میں مبتلا ہوجاتےہیں ،جہاں ایک طرف موٹرسائیکل سواروں کے لیے پٹرول مہنگے سے منہگا ترہو رہا ہے، وہیں ان ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پران کی اسکوٹر کا ٹائر پنکچر ہونا،یا کوئی دوسری خرابی ہونا روز کا معمول بن چکا ہے،مگر کیا کیا جائےکراچی میں رہنا ہےتو ان سب باتوں کی عادت تو ڈالنی ہی ہو گی ،کیونکہ کراچی کوپیرس بنانے کےدعوے کرکےعوام کو بےوقوف بنانے والے نام نہاد لیڈرتو خود ہی لندن شفٹ ہو گئےاورعوام کو کیا ملا وہی بے حال کراچی۔
جب کراچی کےلیےلکھتی ہوں توبات ہمیشہ کہیں سےکہیں نکل جاتی ہے،مسائل ہی اتنےہیں کہ ایک پرلکھنےبیٹھوتودوسری بات یادآجاتی ہے۔ تازہ مسئلہ کراچی کے اس یزید کےبارے میں ہے جو کراچی کی عوام پرہرتیسرے دن اپنی یزیدیت سے کوئی نہ کوئی تیر برساتا ہےاور بےبس عوام بلبلا اٹھتے ہے ۔
جی ہاں میں بات کررہی ہوں کے الیکٹرک کی دل تو چاہتاہےاس ادارےکا نام کےالیکٹرک کےبجائےکچراالیکٹرک رکھ دیاجائے۔ حال ہی میں جو بم کراچی کے عوام پر اس نے گرایا گیا ہے،وہ یہ ہے کہ کچرا اٹھانے کا ٹیکس بھی اب ہرمہینے بجلی بل میں لگ کرآیا کرے گا ۔یعنی جو کچرا سالوں سے ہم افغانی بچوں کودوسو ڈھائی سو اور کسی کسی ایریا میں تین سو روپے ماہانہ دے کراٹھواتےہیں ،اب اس بلدیہ کے نظر نہ أنے والے جمعداروں کی سیلری ہم سے بجلی کے بلوں میں وصول کی جائےگی ۔
ارے ظالموں یزیدوں جو جمعداراپنی ڈیوٹی پرآتےہی نہیں،گھربیٹھےگورنمنٹ کی تنخواہ کھا رہےہیں،ان کی تنخواہ اب ہمارے بجلی کے بلوں کے ذریعے کاٹی جائے گی۔ یہ کراچی کی عوام پر کیسا ظلم ہے؟
المیہ تو یہ ہے کہ کراچی کے عوام اپنی فریاد کس کے پاس لےکر جائیں۔ کون ہےجو اس ظالم کچراالیکٹرک سے اس ظلم کا حساب لے، کہاں سے لائیں ہم وہ حسین جو وقت کے اس یزید کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہو۔ یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے،کس سے فریاد کریں۔
کراچی کے لیے دل سے ایک ہی صدا بلند ہوتی ہے ،"میں کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کروں"
تلاش کرنے پر آئیں تو قاتل ایک نہیں کئی نکلیں گےمگر فی الحال تو کراچی میں برسوں سے حکومت کرنےوالی جماعت کے وزیراعلیٰ سندھ سے پرزور اپیل ہے کہ کچراالیکٹرک کے بل میں سے اس فضول بے معنی اضافی بل کوفی الفور ختم کیا جائےاور مہنگائی کے اس دور میں ظلم نہ کیا جائے۔
نوٹ: ایڈیٹر کا بلاگرکے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں





































