
نزہت ریاض
ردا یونیورسٹی جانے کےلیے پوائنٹ پرسوار ہوئی تو تقریباً ساری سیٹیں بھری ہوئیں تھیں۔ اسے بالکل پیچھےکی سیٹ سےایک لڑکی نےاشارہ کر کے بتایا
کہ ادھرآجاؤ ردا اس لڑکی کے برابروالی سیٹ پر جاکر بیٹھ گئی ۔ اس لڑکی نے مسکرا کرردا کی طرف دیکھا اور اپنا تعارف کراتے ہوئے بولی میں شکیلہ ہوں ابھی نیا ایڈمیشن ہواہے میرا۔۔۔۔ اوہ اچھا میں ردا ہوں تھرڈ ایرمیں ہوں اگرمیری کسی ہیلپ کی ضرورت ہو یونی میں تو ضرور بتانا ۔ ردا نے ہاتھ ملانے کے لیےاس کی طرف بڑھایا اس لڑکی نے گرمجوشی سےردا کا بڑھا ہوا ہاتھ تھام لیا ۔ ردا کو اس لڑکی کا ہاتھ بہت سخت اورکھردرا سا لگا ردا کواس سے ہاتھ ملا کرعجیب سا احساس ہوا اس نے فوراً اپنا ہاتھ شکیلہ کے ہاتھ کی مضبوط گرفت سے چھڑا لیا ۔
یونورسٹی آگئی تمام لڑکیاں پوائنٹ سے اترنے لگیں وہ نئی لڑکی بھی ردا کےساتھ ساتھ اتر گئی۔ اپنی کلاسز کے ختم ہونے کے بعد ردا پوائنٹ کے اسٹاپ پرپہنچی تو وہی صبح والی نئی لڑکی مسکراتے ہوئے ردا کی طرف بڑھی اور بولی۔"میں اپ کا ہی انتظارکر رہی تھی"وہ کیوں ؟ردا نے حیرانی سے پوچھا۔ ارے بھئی میں نے سوچا صبح کی طرح ساتھ چلیں گےاوہ اچھا ،دونوں پوائنٹ میں سوار ہوگئیں سارے راستے شکیلہ ہی ذیادہ بات کرتی رہی ردا کو ذیادہ بولنے کی عادت نہیں تھی اور نہ ہی وہ نئے لوگوں سے اتنی جلدی گھل مل جاتی تھی جیسے شکیلہ پہلی ملاقات میں اتنی فرینک ہو رہی تھی ۔
ردا اپنے مطلوبہ اسٹاپ پر اتر گئی اور شکیلہ کاچونکہ اسٹاپ نہیں آیا تھا تو وہ ردا کےاترتے ہی آگے والی سیٹ پر بیٹھی لڑکی کے ساتھ جاکر بیٹھ گئی اور اس سے بھی باتوں میں مصروف ہو گئی۔
آہستہ آہستہ شکیلہ اورردا کی دوستی بڑھتی جا رہی تھی اس میں زیادہ کوشش شکیلہ کی طرف سے ہی تھی وہ ہر وقت ردا کے ساتھ ساتھ رہتی پھروہ لائبریری ہو کینٹن ہو یا بس وہ ہر اس جگہ پہنچ جاتی جہاں ردا موجود ہوتی ۔ردا کو کبھی کبھی شکیلہ سے الجھن بھی محسوس ہوتی مگر وہ اپنی اس الجھن کو کوئی نام نہیں دے پا رہی تھی ۔ اسی طرح شکیلہ کو یونورسٹی میں آئے ہوئے تقریباً دو ماہ ہو گئے اور پھر اس دن وہ واقعہ پیش أیا ۔ ردا لائبریری میں کوئی کتاب ایشو کرانے آئی تھی ،اس وقت لائبریری میں بالکل رش نہیں تھا ایک دولڑکیاں ہی بیٹھی ہوئی تھیں۔ردا کتاب اشو کرا کر وہیں ایک ٹیبل پر بیٹھ کر کتاب پڑھنے لگی۔اسی اثناء میں شکیلہ اس کے ساتھ آکر بیٹھ گئی اور ردا کو غور سے دیکھنے لگی ردا کو پھر اسی الجھن نے آگھیرا جو کبھی کبھی اسےشکیلہ سے محسوس ہوتی تھی ۔اس نے شکیلہ کی نظروں کی تپش خود پرمحسوس کرلی تھی ،اسی لیےاب اس کا دھیان کتاب کی طرف نہیں ہو پارہا تھا ۔
"کیا بات ہے تم مجھے اس طرح کیوں دیکھ رہی ہو ؟"اس نےکرخت لہجے میں شکیلہ سے سوال کیا اور شکیلہ کے جواب نے اس کے اوپر مانو کسی نے پہاڑ گرا ڈالا۔
تم مجھ سے شادی کرو گی؟شکیلہ نےاس کا ہاتھ پکڑ کر پوچھا؟ کیاردا کی چیخ نما آواز لائبریری کےخاموش ماحول میں گونج اٹھی۔لائبریری میں بیٹھی ایک دو لڑکیاں ردا کی چیخ سن کرچونک کر ان کی طرف دیکھنے لگیں۔
ردا نے ایک جھٹکےسے اپنا ہاتھ شکیلہ کےہاتھ سے چھڑایا اورکرسی سےاٹھ کھڑی ہوئی اور دوبارہ چلاکربولی"کیا کہا تم نے؟شکیلہ عاجزی سے گویا ہوئی "میں تم سے شادی کرنا چاہتی ہوں ۔ مجھے تم سے محبت ہوگئی ہے۔ میں تمہارے بغیر جی نہیں سکوں گی پلیز پلیز میری محبت کوقبول کرلو ۔۔ "تم ہوش میں تو ہو میں ایک لڑکی سے شادی کروں گی؟ تمہاری جرات کیسے ہوئی مجھ سے یہ بات کرنے کی؟
دیکھو بات دراصل یہ ہے کہ میں ایک مرد تھااورمیرا نام شکیل تھا،مگرمجھےاپنےاندرلڑکیوں جیسی باتیں عادتیں ذیادہ محسوس ہوتی تھیں اورمیرا دل لڑکیوں کی صحبت میں زیادہ لگتا تھا ۔ میں اپنے گھرمیں چار بہنوں کے بعد پیدا ہوا تھا اور گھر والوں کو اس بات کی بہت خوشی تھی کے چار بہنوں کے بعد ایک بیٹا پیدا ہوا ہے۔میری امی اور بہنیں بہت محبت سے مجھے پال پوس رہی تھیں۔ بچپن تو میرا زیادہ تر بہنوں کے ساتھ کھیل کود کر گزرا پر جب میں تھوڑا بڑا ہوا تو امی مجھے باہر گلی میں بچوں کے ساتھ کھیلنے بھیجتیں مگر میرا دل وہاں کھیلتے لڑکوں میں بالکل نہیں لگتا تھا ۔میں وہاں بھی لڑکیوں کے ساتھ ہی کھیلتا ۔آہستہ آہستہ امی کو بھی یہ بات محسوس ہونا شروع ہوگئی کہ میں لڑکیوں میں زیادہ خوش رہتا ہوں تو امی نے ڈانٹ ڈپٹ کر مجھے اس بات سے روکنے کی کوشش کی ،مگر میں کیا کرتا میں کوشش کے باوجود اپنی اس عادت پر قابو پانےسے قاصر تھا نتیجے میں امی نے مجھے گھر سے باہر کھیلنے بھیجنا بند کر دیا اور میں بخوشی گھر میں بہنوں کے ساتھ کھیلتا ۔چونکہ اسکول کو ایجوکیشن تھا تو میں وہاں بھی صرف لڑکیوں سےہی دوستی کرتا اورلڑکیاں میری اس بات پر غور نہیں کر پاتیں کہ میں لڑکوں سے ہمیشہ دور ہی رہتا۔ ایک ایک کرکے میری بہنوں کی شادیاں ہوتی گئیں اور میں گھر میں اکیلا رہ گیا۔ امی اب بیمار رہنے لگیں تھیں ابو کا چند سال پہلے انتقال ہوچکا تھا پھر ایک دن امی بھی مجھے اکیلا کرکےاس جہان فانی سے کوچ کر گئیں ۔
میری عادتیں اب آذادی اوراکیلے پن کی وجہ سے اور مضبوط ہوگئیں تھیں۔ میں اپنے آپ کو آئینے میں دیکھتا تومجھے خود میں ایک لڑکی ہی نظر آتی ۔ان ہی دنوں پاکستان میں ٹرانس جینڈر بل کے چرچے شروع ہورہے تھےمیری تو مانو دلی مراد بر آئی میں نے پہلی فرصت میں آپریشن کرالیا اوراپنا نام شکیل سے شکیلہ رکھ لیا اور اس شہر میں آگیا تاکہ مجھے یہاں لڑکی بن کر رہنے میں کوئی دشواری نہ ہو ۔
اب تم بتاؤ میرا اس میں کیا قصور ہے،مجھے تو اللہ نے ایسا بنایا ہے؟ردا جو دم بخود اس کی کہانی سن رہی تھی ۔ ایک دم بول پڑی"؛خبردار جو تم نے اپنی غلط بات کے لیے اللہ کو ذمہ دار ٹھہرایا اگر تمہارے اندر ایسی کوئی بات تھی تو اس بیماری کا علاج ہو سکتا تھااور تم علاج کے بعد نارمل مرد کے جیسی زندگی گزارسکتے تھے،نہ کہ تم نے آپریشن کراکے اپنے آپ کو لڑکی بنا کر آذادی حاصل کر لی کہ تم باپردہ لڑکیوں کے ساتھ نا محرم ہوتے ہوئے وقت گزارو اور ان کا عزت و وقار مجروع کرو اور اس پر طرہ یہ کہ تم مجھے شادی کی پیش کش کرہے ہو۔ میں لعنت بھیجتی ہوں ایسے بل پر اور اس کو پیش کرنے والے بےغیرت حکمرانوں پرجو اس اسلام کے نام پربننے والے میرے وطن میں یہ بل پیش کرکے ہمیں قوم لوط کے ساتھ کھڑا کرنا چاہتے ہیں۔
اے اللہ تو گواہ رہنا میں بہت گناہگار سہی مگر میں اس کبیرہ گناہ کا حصہ بننے سے انکار کرتی ہوں اور میں تم پر بھی لعنت بھیجتی ہوں جو اس بل کی آڑمیں تعلیمی اداروں میں کالی بھیڑبن کر ہم شریف لڑکیوں کی راہ کھوٹی کرنے آگئے ۔ ردا اٹھی اور سیدھی پرنسپل کے أفس کی طرف چل دی تاکہ اس شخص کی حقیقت سے پردہ اٹھا سکے اور شکیل یا پھر شکیلہ وہیں اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔اس کے کانوں میں اب بھی ردا کی أوازیں شورمچا رہی تھیں ۔ قوم لوط قوم لوط یا اللہ کیا میں قوم لوط میں اٹھایا جاؤں گا؟





































