
نزہت ریاض
حریم ادب کراچی کےزیر اہتمام آرٹس کونسل میں کراچی میں ربیع الاول کےپرنورمہینے کی نسبت سےنعتیہ مشاعرے کا انعقاد کیا گیا ۔ پروگرام کی مناسبت
سے اسٹیج کو گلاب کے پھولوں آراستہ کیا گیا تھا اور بھینی بھینی خوشبو سے پورا ہال مہک رہا تھا۔پروگرام کی نظامت کےفرائض حریم ادب کی دو بہنوں اسریٰ غوری اورسمیرا غزل نے انتہائی عقیدت ومحبت سے نبھائے ۔ سمیراغزل جوخود بھی بہت زبردست شاعرہ ہیں نے سب سے پہلے اپنے نعتیہ اشعار سے پروگرام کا آغاز کیا ۔
عشرت زاہد نےتمام مہمانوں کا تعارف پیش کیا اورپھرتمام شاعرات نےایک ایک کرکےاپنا نعتیہ کلام پیش کیا، محفل میں وقتاً فوقتاً درود سلام کی صدائیں بلند ہوکرمحفل کا وقار بڑھا رہیں تھیں۔ طاہرہ فاروقی نے اپنا نعتیہ کلام پیش کیا اور داد تحسین وصول کی۔
ان کے بعد شاعرہ مصنفہ نعت خواں ادیبہ فریال نےاپنا نعتیہ کلام پیش کیا ۔
"میرے پیارےمحمدرسول عربی
مجھے اپنا بنایا ان ہی نے
ان سے محبت سب سے ذیادہ
راستہ جنت کا دکھایا ان ہی نے"
ان کےپرترنم اورولولہ انگیز کلام کے بعد شاہدہ خورشید بتول نےاپنا نعتیہ کلام پیش کیا۔ نوجوان شاعرہ جوکہ ڈاکٹری کی مشکل پڑھائی بھی کررہی ہیں ،اس پرمغز پڑھائی کےساتھ بہتریں شاعرہ بھی ہیں نےپرنورانداز میں نعت پیش کی۔ان کے بعد معروف شاعرہ افسانہ نگار فاطمہ حسن نے کلام پیش کیا، انہوں نے اپنے پہلے عمرے کی جذباتی کیفیات کو اپنی شاعری میں سمو کرسرور کونین کے دربار میں اپنی حاضری کا احوال بتایا۔ معروف شاعرہ اور نقاد ڈاکٹر نزہت عباسی نے اپنی نعتیہ نظم پیش کی جس کا عنوان تھا میرے حضورﷺ ۔
ان کے بعد أمنہ عالم صاحبہ نےنعتیہ اشعار پیش کیے۔حاضرین محفل انہتائ عقیدت و احترام سے اس پر نورمحفل سےمستفید ہو رہےتھے۔ محفل نعتیہ مشاعرہ میں درود و سلام بھی پیش کیا جارہا تھا۔محترمہ عزیزہ انجم نے نعتیہ کلام پیش کیا ۔
اسما سفیر نے ربیع الاول کی مناسبت سے آج کے معاشرے کا جائزہ لینےپر زوردیا کہ أج ہم چراغاں اورجھنڈے لگاکر سمجھتے ہیں کہ ہم نے حضور اکرمﷺ سے محبت کا حق ادا کر دیا ہے جب کہ حضور سےمحبت کے اظہار کا طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنے عمل سے پیش کریں کہ ہم ان کی دی ہوئی ہدایت کو کس طرح اپنی زندگیوں میں شامل کر رہے ہیں۔ آج معاشرے کی ابتری کا عالم یہ ہے کہ آئے دن کوئی نیا فتنہ سراٹھا لیتا ہے تو کیا حضورﷺ کی محبت کسی ایک مہینے کی محتاج ہونی چاہیے۔ نہیں محبت کے پیمانے کو اپنی پوری زندگی محمد کی اتباع کرکےگزارنی چاہیے۔حضورﷺ نےاپنے آخری خطبے میں یہی فرمایا تھا کہ میری بمت کا ہرفردمیرے مشن کو لے کر آگےبڑھےاوراللہ کے پیغام کو پھیلائے۔ ہمیں ان لوگوں سے جڑنا ہوگا جو کتاب اور سنت کے ذریعے اس اس نظام کو نافذ کرنے کی کوکوششیں کر رہے ہیں ۔
تقریب اختتامی مراحل کی جانب بڑھ رہی تھی، اسی دوران نسیم نازش نے نعتیہ کلام پیش کیا ۔ زینت لاکھانی نے نعتیہ نظم پیش کی اور سب سے آخرمیں غزالہ عزیز نے دعا کرائی اور یوں یہ خوبصورت ومقدس نعتیہ مشاعرہ اختتام کو پہنچا،جس کی یاد اب اگلے نعتیہ مشاعرے تک ہمیں آتی رہے گی۔





































