
نزہت ریاض /حریم ادب
بارہ ربیع الاول آیا اورچلا گیا،سارے شہر میں چراغاں ہوا۔ پورے پاکستان میں یہ دن منایا جاتا ہے،کیونکہ میرے پیارے نبی پاک حضرت محمد
صلی اللہ علیہ والہ وسلم اس دنیا میں تشریف لائے۔اس بحث کو کسی اورمضمون میں پیش کروں گی کہ ربیع الاول منانا چاہیےیا نہیں کیونکہ میرے پڑھنے والے برامان سکتےہیں ،ورنہ قرآن حدیث اورسنت میں کہیں بھی ہمیں ایسا کوئی پیغام نہیں ملتا، جس کی رو سے ربیع الاول منانا ثابت ہوتاہو ۔
بہرحال جو لوگ بھی اپنی خوشی کا اظہار اس طریقے سے کر رہے ہیں ،اس طرح سےمیلاد صلی علیہ وسلم نہیں مناتے ہم سب کے لیے یہ تاریخ ہرسال ایک سوال لے کر آتی ہےکیا، ہم اس اللہ کے محبوب کی امد کا مقصد جانتےہیں ۔ کیا ہم ان کی دی ہوئی ہدایات کاحق ادا کرپا رہے ہیں ؟ میرے نبی پاک کو اللہ نے ہدایت کا سر چشمہ بنا کر بھیجا تھا اور رہتی دنیا تک قرآن کے ذریعے نبی مہربان محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت ہمارے لیےہمارے مسلمان ہونے کے ناطے ہمارے گھر میں ہمارے ہاتھوں میں موجود ہے ۔
تو سوال ہے کہ اس کتاب ہدایت جس کانام قران مجید ہے،آج کی زندگیوں میں ہم اس سےکتنا جڑے ہوئے ہیں ۔ کیا ہم قران کوسمجھ کرپڑھتے ہیں ؟ کیا عربی کی ایک بھی آیت کا ترجمہ پڑھ کر ہم اس سے کوئی بات اپنی زندگی میں اپنارہے ہیں ؟ سوال مشکل ضرور ہے،مگرمیں اور آپ چاہیں تو اسی قرآن کےذریعےاپنی روزمرہ کی زندگی کو بہت آسان اورسادہ بنا سکتے ہیں ۔ میرے نبی پاک پرجب پہلی وحی نازل ہوئی تو اللہ نے جبریل علیہ سلام کے ذریعےکہا اقرا ،مطلب پڑھو تواس کا مطلب دنیاوی پڑھائی نہیں بلکہ قرآن کو پڑھنا تھا۔ میرے پیارے نبی نے اس پہلی وحی کا حق اپنی پوری زندگی تک ادا کیا ۔
سبحان اللہ میرے نبی پر ہزاروں درود اورہزاروں سلام کہ جس نےکفار کےظلم سہے،پریشانیاں کاٹیں، صعوبتیں اٹھائیں قدم مبارک لہولہان ہوئے،مگر قدم کبھی ڈگمگائے نہیں ۔ قرآن کے ذریعے دنیا کو اندھیرے سے اجالے کی طرف لائےغفلت کی پٹی آنکھوں سےاتاری ۔
کیا آج وہی اندھیرا اور غفلت دوبارہ ہمارےمعاشرے میں نظرنہیں آرہا کیا وہی ساری برائیاں ہم میں نہیں پنپ رہی جو پہلی قوموں میں موجود تھیں۔ کسی ایک برائی کی وجہ سےوہ قومیں اللہ کےغضب کا شکار نہیں ہوئی تھیں جو ساری کی ساری برائیاں آج ہم میں موجود ہیں ۔سود ہم کھا رہے ہیں ۔زنا ہمارے ہاں کھلے عام ہورہا ہے۔ چوری ،قتل ہم کرتے ہیں ۔غیبت سے ہم نہیں بچتے ۔ پڑوسی کا حق ہمیں نہیں معلوم ، یتیم پررحم ہم نہیں کرتے اور اس تابوت میں آخری کیل ٹرانس جینڈربل پیش کرکے ٹھونکی جارہی ہے۔اس بل کے ذریعے ہم قوم لوط کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ ناپ تول میں کمی ہم کرہے ہیں۔ حج اورعمرے جیسی سعادت ہم سودادا کیےبغیر نہیں کر سکتے ۔
تو میرا سوال صرف اتنا ہے کہ ہم کس منہ سےربیع اول منا سکتے ہیں ؟میرے نبی پاک کی کون سی حدیث کون سی سنت ہے جو ہم اپنائے ہوئے ہیں، جس قرآن کی ہدایت انہوں نے دی اس کو تو ہم نےاٹھا کر طاق پر رکھ دیا ہے۔ قرآن کب اٹھایا جاتا ہے ؟کوئی بیمار ہے اس کے سرہانے سورہ یسین پڑھومردے کے قریب سورہ بقرہ پڑھنی بہت ضروری ہے،گھر میں کوئی پریشانی ہےآٹھ دس عورتوں کو جمع کرکےقرآن خوانی کرالو ۔سفرکا مہینہ ہے سورہ مزمل آٹےکی گولیوں پر 313 بار پڑھ کر دم کرنا ہے اور سمندر کی مچھلیوں کو وہ گولیاں کھلانی ہیں۔ بیٹی کی رخصتی قرأن کے سائے تلے کرنی ہے حالانکہ اس رخصتی سے پہلے مہندی مایوں جیسی غیر اسلامی ہندوانہ رسم میں بے ہودگیوں کا طوفان مچایا جاتا ہے،پھر کیسے دل مان جاتا ہے قرآن کے سائے تلے رخصت کرنے کا ؟
کیا ہم مطلب پرست نہیں ہیں اپنےمطلب اور غرض سےقران کا استعمال کررہے ہیں اوروہ استعمال قرآن حدیث اور سنت سےکہیں ثابت بھی نہیں ہے۔
یہ وہ رانگ نمبرز ہیں جو ہم اپنی زندگیوں میں مسلسل ملائے جا رہے ہیں، ان کے ملانے سے سامنے والا کبھی مثبت جواب نہیں دے گا۔ مثبت جواب پانے کے لیے ہمیں قرأن سے جڑنا ہوگا ۔ ایسی اجتماعیت سے جڑنا ہوگا جو نظام مصطفیٰ کے نفاذ کے لیے کوشاں ہے ۔ایسے لیڈرچننے ہوں گےجو اسلام اور کلمے کی بنیاد پر بننے والےمیرے پیارے وطن پاکستان میں اسلام رائج تو کرسکیں آج اسلامی جمہوریہ پاکستان میں دین اسلام کو نافذ کرنا ہی سب سے مشکل مرحلہ ہو گیا ہے۔ ہم اچھے کی امید کیسے کریں ۔رانگ نمبر ڈائل کرنا آج ہی سےچھوڑنا ہے میں اور آپ سب آج ارادہ کرتے ہیں کہ نبی پاک کی ولادت کی خوشی اگلے سال اسی عہد کی پاسداری کر کے منائیں گے ۔





































