
شبانہ حفیظ
دسمبر کا مہنہ کتنا خوبصورت ہوتا ہے ہلکی ہلکی ٹھنڈک جسم کوبہت بھلی لگتی ہے۔موسم کی گلابی شام دل کیلئے بہار بن جاتی ہے۔
ایسی شام کو میں انجوائے کررہی تھی کہ اچانک میرے ذہین میں عجیب خیالات آنا شروع ہوگئے۔میں کہیں گم سی ہوگئی۔
دسمبر سال کا أخری مہنہ ہوتاہےاوراس کے ختم ہوتے ہی سال بھی ختم ہوجائےگا۔
نیا سال شروع ہوجائے گا گزرجانے والےسال کے پچھتاوے یاد آتےہیں اورآنے والے سال سےاچھی امیدیں وابستہ کرلیتےہیں ۔ہر بارایسا ہی کرتے ہیں لیکن ہرگزرنےوالا سال پچھتاوے ہی چھوڑ کرجاتا ہے۔
ہمارے ہاتھوں سے ہماری عمر،ہماری اقداراورہماراکلچر نکل جاتاہے۔ کون کون ہم سے بچھڑ جاتاہے۔
جیسے اس سال۲۰۲۱میں ہمارے قومی ہیروڈاکٹرعبدالقدیر خان صاحب ہم سےبچھڑگئے،پاکستان کی معروف شخصیت بچہ بچہ آپ کوجانتاہے۔ بس آج انہیں کی کہانی پڑھتے ہیں۔
بھوپال ۱۹۳۶۔میں آپ کی پیدائش ہوتی ہے۔ابتدائی تعلیم بھوپال میں حاصل کی ۱۹۵۲میں پاکستان تشریف لائے۔
پاکستان سے پھر جرمنی چلےگئے۔ ۱۹۷۴میں انڈیا نے دھماکہ کیا آپ نے سوچا کہ انڈیا نے ایٹمی طاقت بن گیاہے۔آپ کو پاکستان سےدلی محبت تھی۔ آپ نے اس وقت کےوزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو کو خط لکھا کہ وہ پاکستان کے لیے ایٹمی بم تیار کرسکتے ہیں ۔
یہ سننا تھا کہ بھٹو نےفوراً آپ کو پاکستان آنےکی دعوت دی۔یورپین ممالک کوخبربھی نہ ہونےدی اوریوں خفیہ طورپرایٹم بم تیار کرلیا۔
عبدالقدیرخان پرالزامات بھی لگائےگئے۔ نظر بند بھی کیا گیا ۔آپ نےکافی مشقتیں اٹھائیں، لیکن پاکستان کوایک ایٹمی طاقت بناکراس دنیا سےرخصت ہوگئے۔
اب میں سوچ رہی ہوں کہ زندگی میں ان کی ویسے ہی قدرنہیں کی گئی، جیسے کی جانی چاہیے تھی۔ ان کے جانے کے بعد خیال آیا ہے کہ عبدالقدیر خان جیسے سائسدان کم ہی پیدا ہوتے ہیں ۔
آج کل جو تعلیم کا حال ہیں کیا کوئی سائسدان بن پائے گا ؟




































