
نگہت فرمان
میں چھوٹے سے کمرے کی مدھم سی روشنی میں ایک خستہ حال چارپائی پربیٹھی کوئی عام ان پڑھ عورت نہیں ہوں،میں نے دنیا کے نام ورتعلیمی اداروں
سے تعلیم حاصل کی ہے اور وہ بھی اعزاز کےساتھ اورپھریہ تعلیمی مراحل عبور کرتے ہوئےمیں نےامریکا میں دنیا کی معتبر یونی ورسٹی ماشسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے،میں نے براڈیز اوریونی ورسٹی آف ہیوسٹن سے بھی اپنی تعلیم مکمل کی ہے۔
جی! میں ایک ممتازنیوروسائنٹسٹ عافیہ صدیقی ہوں۔ ایک انتہائی روشن مستقبل میرا منتظررہا لیکن پھر میں بےرحم تھپیڑوں کا شکار ہوگئی، کیوں ؟ اس کے لیے تو کئی کتب درکارہیں۔ میرے ناکردہ جرائم کی تعداد توبےشمارہے، میں ایک ایسی"مجرمہ"ہوں جسے نہ اپنے جرم کا معلوم ہے نہ گناہ کی خبر،میں ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹ رہی ہوں۔ میرا شیرخوار سلیمان اتنے برسوں میں جانےکیسا ہوگیا ہوگا۔ میرا احمد، میری مریم، میری ماں اوربہن جانےسب کیسے ہوں گے؟میں اپنا ہر لمحہ اذیت میں ان کی یاد کی آگ میں جل کر کاٹتی ہوں۔
میں وہی عافیہ ہوں جس کی آنکھوں میں زندگی تھی،چمک تھی، کامیابی و کامرانی کی، اب یہ آنکھیں ویران ہیں،روح گھائل ہے، میرا وجود زخمی ہے،ہر زخم سے خون رس رہا ہےلیکن آنکھیں خشک، ناانصافی، ظالمانہ نظام، بے حس حکم ران، یہ سب مجرم ہیں میرے، انہوں نے میری زندگی کے قیمتی سال ضائع کردیے،میں نے دنوں، مہینوں، برسوں کی گنتی بھلا دی ہے۔وقت ایک نہ ختم ہونے والا ڈراؤنا خواب بن گیا ہے۔
میری آزادی، میرا روشن مستقبل، میرے بچے،میری خوشیاں سب کچھ چھین لیا گیا۔ایک بے سروپا الزام ومتعصبانہ مقدمہ، کاذب وکلاءوجج ۔مجھے فیصلے کا بخوبی اندازہ تھا، جانے کیوں عدالتی کارروائی کا ڈراما رچایا گیا اوربغیر کسی ٹھوس ثبوت کے سزا سنا دی گئی۔ میں مجرم نہیں، مظلوم ہوں اور ایسے نظام کی بھینٹ چڑھی ہوں جو انسان کش ہے اور صرف اپنے مفاد کی بھینٹ کسی کو بھی بڑھ سکتا ہے۔میں اپنی آزادی، اپنی عزت، اپنی زندگی واپس چاہتی ہوں۔ میں اپنے بچوں کو گلے لگانا چاہتی ہوں۔ ان کے لمس کو محسوس کرنا چاہتی ہوں۔میں تھک گئی ہوں ظلم سہتےسہتے۔
اے اﷲ! میں کب تک جرم بے گناہی کی سزا کاٹتی رہوں گی؟ مجھے برسوں سے بغیر کسی ثبوت کے،بغیر کسی انصاف کے قید کیا گیا ہے۔میری جوانی، میراخاندان لٹ گیا ہے اور میں خود کئی مرتبہ جسمانی، ذہنی اورجنسی زیادتی کا شکاررہی ہوں۔ نظام کرپٹ ہے،منصف سنگ دل ہیں،انہیں کوئی پروا نہیں لیکن میں پھربھی اپنے وقاراوردعوے پر قائم ہوں۔مجھے ظالموں سے کسی خیر کی توقع نہیں۔ مجھے معلوم ہے وہ اپنے راستے میں آنے والے زندہ و جاوید انسانوں کو چیونٹی کی طرح مسل دیتے ہیں لیکن مجھے اپنے رب پریقین ہے کہ وہ میرے ساتھ ہونےوالے ظلم کا سخت حساب لے گا۔بس مجھے اسی پل کا انتظار ہے جب میرے رب کی پکڑآئے گی ۔ اس وقت میں پوچھوں گی میرے توانا جسم کو زندہ لاش میں بدل دینے والو میری ہنسی کو آہوں میری خوشیوں کو غم میں بدل دینے والو بتاؤ تم کیا حساب دو گے ؟





































