
نگہت فرمان
کسی دانشور کا قول ہے،''اچھے حکم راں بری قوم کواچھا بناتے ہیں۔اگر بھیڑوں کےریوڑ کو شیر کی قیادت مل جائے تو وہ ریوڑ کو لشکربنا دیتا ہے۔''قائد
اعظم محمد علی جناح بھی برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایسے لیڈر گزرے ہیں جنہوں نے ریوڑ کو لشکر بنادیا تھا۔
قائد اعظم کی پاکستان کے حصول کے لیے جدو جہد کے واقعات کا ہمیں بہ خوبی علم ہے اور پاکستان کس لیے بنا ،ضروری ہے کہ ہم ہمہ وقت اس کی تجدید کرتے رہا کریں تاکہ جس نظریہ کو ہماری لبرل و ایلیٹ کلاس دفن کرنا چاہ رہی ہے ،اسے زندہ رکھا جاسکے اور قیام پاکستان کا مقصد،ضرورت اور نظریہ نئی نسل تک منتقل ہوتا رہے ۔
قائد اعظم نے ایک بار نہیں بار بار اپنی تقاریر و گفتگو میں اس مقصد کی یاد دہانی کرائی کہ پاکستان کے حصول کا مقصد کیا تھا ۔ مسلمانوں کے اتحاد و یکجہتی کے اصول کو اجاگر کرتے ہوئے 11 جولائی 1946 ء کو حیدر آباد دکن کے جلسہ عام میں فرمایا: اگر ہم قرآن مجید کو اپنا آخری اور قطعی رہبر بنا کر شیوہ صبر ورضا پر کار بند ہوں اور اس ارشاد خداوندی کو کبھی فراموش نہ کریں کہ تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں تو ہمیں دنیا کی کوئی ایک طاقت یا طاقتیں مل کر بھی مغلوب نہیں کر سکتیں ۔ ہم فتح یاب ہوں گے۔ اسی طرح جس طرح مٹھی بھر مسلمانوں نے ایران و روم کی سلطنتوں کے تختے الٹ دیے تھے۔ اسی طرح ان سے جب بھی پاکستان کے طرز حکومت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے دو ٹوک کہا کہ میں کون ہوتا ہوں یہ طے کرنے والا۔ پاکستان کا طرز حکومت کیا ہوگا ؟ مسلمانوں کا طرز حکومت آج سے تیرہ سو سال پہلے قرآن مجید نے وضاحت سے بیان کر دیا تھا۔پاکستان کےآئین و قوانین اسلام کے عین مطابق ہوں گے۔
قائداعظم نے اپنی وفات سےدو تین روز قبل اپنے معالج پروفیسر ڈاکٹرریاض علی شاہ کے ذریعہ قوم کو پیغام دیتے ہوئے کہا تھا،''تم جانتے ہوئے کہ جب مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ پاکستان بن چکا ہے تو میری روح کو کس قدر اطمینان ہوتا ہے۔ یہ مشکل کام تھا اور میں اکیلا کبھی نہیں کرسکتا تھا ،میرا ایمان ہے کہ یہ اللہ کا معجزہ ہے کہ پاکستان وجود میں آیا۔ اب یہ پاکستانیوں کا فرض ہے کہ وہ اسے خلافت راشدہ کا نمونہ بنائیں تاکہ اللہ اپنا وعدہ پورا کرے اور مسلمانوں کو زمین کی بادشاہت دے۔''۔
اتنے واضح موقف اتنی جدودجہدو قربانیوں کے بعد بھی اگرکوئی قیام پاکستان و قائد پاکستان پر سوال اٹھاتا ہےتواسےاس کی جہالت اور ہٹ دھرمی ہی کہا جاسکتا ہے ۔آج ہمیں جتنے بھی مسائل درپیش ہیں اس کا اصل سبب یہی ہے کہ ہم اپنی اساس اپنی بنیاد کو بھولے ہوئے ہیں۔ نہ سیاست و آئین میں اسلام نظر آتا ہے۔ نہ ہمارے معاشرتی وانفرادی معاملات میں،جوجس سطح کی بد عنوانی و بے ایمانی کرسکتا ہے ،وہ کررہا ہے۔ ہر چور دوسرے کو لٹیرا کہہ رہا ہے ۔نہ رہبر کے اندر مومنانہ صفات ہیں نہ لشکر کے اندر ایمان، پھر کہاں سے ہمارے حالات بدلیں گے ؟
ضرورت ہے بابائے قوم کے یوم پیدائش پر اس بات کی تجدید کریں کہ ان کی راہ نمائی میں جن مقاصد کے لیے وطن کا قیام ممکن ہوا،اس کے نفاذ کے لیے یک سو و متحد ہوکر کوشش کریں گے ۔سیاسی و لسانی مفادات سے بالاتر ہو کر ایک قوم بن کر ملک کی بقاء کے لیے اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے سوچیں اور عقل و شعور کا استعمال کرتے ہوئے ان افراد کا ساتھ دیں جو واقعی عوام کا خیر خواہ ہو ہمدرد ہو ۔۔خود اپنے اندر ایمان داری و دیانت داری محنت و مستقل مزاجی جیسے اعلی اوصاف پیدا کرنے کی کوشش کریں ۔ایک ریڑھی والے سے لے کر بڑی برینڈ تک جو جتنا چوری و بد دیانتی کرسکتا ہے وہ کررہا ہے۔
اپنے اندر سےاس برائی کا خاتمہ لازمی ہے،جب ہم خود باکردار ہوں گے شفاف ہوں گے تو کیسے ممکن ہےبد دیانت و خائن فرد کو پسند کریں ؟ ہاں ہم ہی اگر بے ایمان ہوں، جھوٹے و خائن ہوں ،چوری کرتے ہوں یا حق مارتے ہوں تو کیسے ہم حاکم کا گریباں پکڑ کر سوال کرسکتے ہیں ؟ تو لازم ہے کہ دین اسلام کی تعلیمات کو اپنا شعار بنائیں اور قائداعظم نے جتنے جتن و قربانیوں کے بعد یہ زمین کا خطہ ہمارے لیے حاصل کیا کہ اسلام کا مضبوط قلعہ بنائیں گے۔ ان خوابوں کی تکمیل میں اپنا حصہ بھی ڈالیں ۔آج بھی پاکستان پر دشمن نظریں گاڑھے بیٹھا ہے ۔ ہم جتنے مصائب میں مبتلا ہیں، اس کے باوجود دشمن ہم سے خوف زدہ ہے ۔ صرف اس لیے اسے معلوم ہے کہ ہم میں ابھی وہ لوگ موجود ہیں جو اپنے دین اپنے وطن کےنظریہ کی حفاظت کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دینے کا جذبہ رکھتے ہیں۔ سواس جذبہ کو بیدار ہی نہیں رکھنا بل کہ تقویت دینی ہے اور متحد ہو کر دکھانا و بتانا ہے کہ ہاں ہمیں اپنے وطن سے عظمتیں حاصل ہیں ۔ اس کی بنیاد و اساس کی حفاظت کے لیے ہم بیدار و زندہ ہیں اور ان شاء اللہ رہیں گے کہ اسی میں ہماری ،ہمارے وطن کی اور ہمارے بچوں کی بقاء ہے ۔





































