
عرشمہ طارق
"ناہید یہ دو سوٹ ارجنٹ سی کر دینے ہیں پیسے اچھے مل جائیں گے تمہیں یہ سوچ کر لےآئی "حاجرہ بی نے تھیلے میں سے دو جاپانی سوٹ نکال کر
ناہید کے سامنے رکھ دئے "یہ سرخ جوڑا تو بہت پیارا ہے سلائی کے لئے آیاہے کیا؟"حاجرہ بی نے تعریف کرتے ہوئے پوچھا "یہ فرح بیٹی کے لئے بہت ارمانوں سےسِیا ہے اللہ میری بچیوں کے نصیب کھول دے فرح اپنے گھر کی ہو تو نمرہ کے بارے میں سوچوں، بِن باپ کی بچیاں ہیں بس یہی خواہش ہے کہ میری زندگی میں اپنے اپنے گھروں کی ہوجائیں"ناہید نے فکر مندی سے کہا۔ میں تو کہتی ہوں ساتھ والے گاؤں میں جو مزار ہے وہاں چلتے ہیں سنا ہے بہت پہنچے ہوئے بابا ہیں جو بھی منت مان کر دھاگہ باندھتا ہے اسکی دلی مراد پوری ہوتی ہے وہ ہے نا رشیدہ اس نے بھی وہاں منت کا دھاگہ باندھا تھا شادی کے پانچ سال بعد اسکی بہو ماں بنی تھی سب بابا کی دعاؤں کی برکت تھی بس بہو نے ایک رات آستانہ پر گزاری تھی تاکہ بابا جی اپنا عمل کرسکیں"۔
"حاجرہ بی مزاروں پر جانا، منت کے دھاگے باندھنا غلط ہے،سب دین سے دوری اورعقیدے کی کمزوری ہے"ناہید کی چھوٹی بیٹی نمرہ نے سلائی کے کپڑے تہہ کرتے ہوئے کہا"بِٹیا بزرگوں سے دعائیں کرانے میں کوئی حرج نہیں، فائدہ ہوتا ہے جب ہی تو دور دور سے لوگ آتے ہیں "حاجرہ بی نے دفاع کیا "ارے ناہید تم بتاؤ کیا کرنا ہے چلو گی میرے ساتھ یہ آجکل کے بچے ان سب باتوں کو کہاں مانتے ہیں میری بھاوج بھی کل جائے گی اسے بھی آئے دن کوئی نہ کوئی مرض لگا رہتا ہے بابا سے دعا کروائے گی۔ ایسا کرتے ہیں کل چلتے ہیں اپنی فرح کو بھی ساتھ لے کر چلیں گے سرخ جوڑا بھی ساتھ رکھ لینا سنا ہے جن بچیوں کے رشتے کے لئے لوگ دعا کرواتے ہیں بابا انہیں سرخ جوڑا پہنا کر انکے لئے عمل کرتے ہیں "ناہید بیچاری حالات کی ماری بیوہ اّن پڑھ عورت اپنی بیٹی کے اچھے مستقبل کے لئے جانے پر راضی ہوگئی۔
سب خواتین بس کا تھکادینے والا سفر کرکے مزار پر پہنچیں تو دیکھا کافی تعداد میں لوگ ایک قبر کےگرد بنی چار دیواری کے اطراف چکرلگا رہے ہیں اور زور زور سے لّبّیک الّلھُمّ٘ہ لّبّیک (تلبیہ)پڑھ رہے ہیں اور اس کے بعد قریب ہی اونچے تخت پر بیٹھے ایک بابا کے پّیر چوم رہے ہیں اور بابا صاحب ان کے سر پر ہاتھ پھیر کر دھاگے پر دّم کرکے انہیں پکڑا دیتے ہیں جوکہ یقیناً منت کا دھاگہ ہوگا "اف اتنی جہالت یہ تو کھلا شرک ہے ۔ لوگوں کا دل کیسے مان جاتا ہے طواف تو صرف اللہ کے گھر کا کیا جاتا ہے اور مّردوں کے ساتھ عورتیں کیسے ایک نا محرم کے پّیر چوم رہی ہیں" نمرہ اور فرح نے استغفار پڑھ کر کانوں کو ہاتھ لگایا" اللہ تعالیٰ ان گمراہ لوگوں کو ہدایت دے"یہ کہہ کر نمرہ نے ماں بہنوں کا ہاتھ پکڑا اور فورآ واپسی کے لئے پلٹ گئی۔
گھر پہنچ کر تینوں ماں بیٹیوں نے شکر کا کلمہ پڑھا کہ اللہ نے انہیں اس بڑے گناہ سے بچالیا۔سرخ جوڑا اٹیچی میں رکھتے وقت ناہید کی آنکھوں سے دو آنسو نکل کر اسمیں جذب ہوگئے۔





































