
عرشمہ طارق
"بیٹا دیکھو دروازے پہ کون ہے"اماں نے سلام پھیر کر اپنی بہو سے کہا"کوئی مانگنے والی ہے کھانا مانگ رہی ہے رمضان میں بھی ان لوگوں کو
سکون نہیں ہے کچھ دے دلا کرچلتا کریں۔میرے سر میں درد ہو رہا ہےمیں لیٹنےجارہی ہوں"بہو صاحبہ نے سر پکڑتے ہوئے کہا"بیٹا ایسے نہیں کہتے بھوکے کو کھانا کھلانا تو ثواب کا کام ہےاور رمضان کے مہینے میں توویسے بھی ایک نیکی پر ستر گنا زیادہ ثواب ملتا ہے ۔تم رہنے دو میں دیکھ لیتی ہوں "ہاں بھئی آپ ہی دیکھیں"یہ کہہ کر بہو صاحبہ نے کمرے کی راہ لی۔
" تمہارا روزہ نہیں ہے"اماں نے کھانا سامنے رکھتےہوئےعورت سے پوچھا "اماں میں روزے سے ہوں میری بچیاں بھوکی ہیں۔اچھا اچھا یہ پیسے بھی رکھ لو افطار کے لئے پھل وغیرہ خرید لینا۔تمہارا نام کیا ہے؟"اماں جی سکینہ نام ہے میرا ۔ اس نے بچیوں کے منہ میں نوالہ ڈالتے ہوئے بتایا۔"سکینہ تم کوئی کام کیوں نہیں کرتیں؟اس طرح بچیوں کو ساتھ لے کر گھر گھر جاکر ہاتھ پھیلاتی ہو ۔ ان پر کیا اثر پڑے گا" "اماں جی کوئی کام ہی نہیں ملتااور میں پڑھی لکھی بھی نہیں ہوں"سکینہ کے لہجے میں مایوسی تھی۔ "ارے بھئی تم صحت مند ہو ہاتھ پاؤں سلامت ہیں۔ اللہ کا شکر ادا کرو۔مجھے صفائی اور کپڑوں کی دھلائی کے لئے ایک کام والی کی ضرورت ہے۔ رمضان میں کام بھی زیادہ ہوتا ہےاور میری بہو کی طبیعت بھی آج کل ٹھیک نہیں تم چاہو تو کل سے آجانا۔ ہاں ہاں اماں جی کیوں نہیں میں تو خود کام کرنا چاہتی ہوں۔
اماں یہ آپ نے کسے کام پر رکھ لیا شام کو بیٹا گھر آیا توماں سےاستفسارکیا، بہو بیگم بھی ساتھ تھیں یقیناًانہوں نے ہی میاں کو بتایا ہوگا۔آج کل کسی پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا ۔پتا نہیں کون ہے ؟ کہاں سے أئی ہے؟ "بیٹے نے خدشہ ظاہر کیا ۔ بیٹا تم فکر نہ کرو میں نے کچھ سوچ کر ہی ایسا کیا ہے"ماں نے بیٹے کو تسلی دی۔
"اماں جی یہ پیسے صاحب کی جیب سے نکلےہیں کپڑے دھوتے وقت سکینہ نےاماں کو پیسےدیتے ہوئے کہا۔
ایک دن جھاڑو لگاتے ہوئے اسے سونے کی بالی ملی"اماں جی یہ آپ کے بیڈ کے نیچے سے ملی ہے "ارے ہاں یہ میری ہے کل گر گئی تھی مجھے مل نہیں رہی تھی۔ شکریہ سکینہ"یہ کہہ کر اماں نے اسے انعام کے طور پر کچھ رقم دے کر کہا "اپنے اور بچیوں کے لئے عید کے کپڑے خرید لینا۔"
"سکینہ تم روزے تورکھتی ہو نماز اور قرآن بھی پڑھتی ہو؟"اماں جی نے تلاوت کے بعد قرآن پاک کو جزدان میں رکھتے ہوئے پوچھا " اماں جی قرآن پاک تو میں نے بچپن میں ایک ملانی جی سے پڑھنا شروع کیا تھا پھر اماں کے انتقال کے بعد گھر کی ساری ذمہ داری میرے اوپر آگئی تو جی آگے پڑھ ہی نہ سکی۔ ہاں نماز پڑھتی ہوں لیکن اس میں بھی بہت ساری چیزیں مجھے نہیں آتیں"سکینہ نے شرمندگی سے کہا "کوئی بات نہیں میں تمہیں قرآن پاک پڑھاؤں گی اور نماز کا صحیح طریقہ بھی سکھاؤں گی۔اچھاہے اس بابرکت مہینے میں پڑھنے کا تو اجر بھی بے حساب ہے ۔"اماں جی نے اس کی شرمندگی دور کرتے ہوئے مسکرا کر کہا۔
افطار کے بعد اماں جی نے اپنے بیٹے سے کہا"بیٹا تم بلاوجہ پریشان ہورہے تھے ۔سکینہ بہت ایماندارعورت ہے۔ ضرورت مند تھی اس لئے میں نے رکھ لیا ۔بہو کو بھی کام میں سہولت ہوگئی۔میں نے کئی مرتبہ اس کو آزمایا ہے ۔اس نے کبھی بے ایمانی نہیں کی جس طرح پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں اسی طرح سب انسان بھی ایک جیسے نہیں ہوتے مجھے اس میں سچائی نظر آئی تھی اور میں نے اللہ پر بھروسہ کرکے اسے کام پر رکھ لیا۔ ورنہ وہ بیچاری نہ چاہتے ہوئے بھی لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلاتی رہتی اور بیٹا کسی کو تو پہلا قدم اٹھانا ہی پڑتا ہے۔





































