
عرشمہ طارق
"ڈاکٹر آسیہ کہاں ملیں گی، مجھے ان سے ملنا ہے۔ انہوں نےمجھے ٹائم دیا تھا"اسپتال کی راہداری میں گزرتی ہوئی ایک نرس سے میں نے پوچھا میں
ایک رسالے سے وابستہ تھی اور ڈاکٹر آسیہ کا انٹرویو اس لئے لینا چاہتی تھی کیونکہ وہ ایک فرض شناس، غریبوں کا درد رکھنے والی ، پردہ دار خاتون تھیں اور نئی نسل کے لئے رول ماڈل تھیں " آپ بیٹھیں وہ راؤ نڈ پر ہیں ابھی آتی ہوں گی"نرس جواب دے کر آگے بڑھ گئی۔
ڈاکٹر آسیہ بچوں کی ماہر ڈاکٹر تھیں۔ اللہ نے ان کے ہاتھ میں بہت شفا دی تھی۔مجھے ان کے کمرے میں داخل ہوتے ہی خوشگوار مہک اور ٹھنڈک کا سکون بخش احساس ہوا۔ میں نے بیٹھتے ہی جائزہ لینا شروع کردیا کمرے کی دیواروں پر بیمار بچوں کی مسکراتی تصاویر آویزاں تھیں۔ ایک پینٹنگ بھی لگی تھی جس میں صبح کے وقت کی بہت دلکش منظر کشی کی گئی تھی جو دیکھنے والے کو تازگی کا احساس دلا رہی تھی ان کی میز پر نفاست سے چیزیں رکھی ہوئی تھیں اور سائیڈ میں کچھ دینی کتب اور پردے کے حوالے سے کتابچے رکھے تھے۔ اتنے میں اچانک کمرے کا
دروازہ کھلا تومیں نے دیکھا ایک باوقار،پردے دارخاتون ڈھیلا ڈھالا لباس اوپرسفید گاؤن پہنے ہاتھ میں اسٹیتھواسکوپ لئے اندر داخل ہوئیں ۔ان کے ساتھ جونئیر لیڈی ڈاکٹرز بھی تھیں۔میں نےدیکھتے ہی کھڑے ہوکر انہیں سلام کیا اور اپنا تعارف کروایا ۔
"میم مجھے معلوم ہے آپ کا ایک ایک لمحہ بہت قیمتی ہے،میں آپ کا زیادہ وقت نہیں لوں گی "میں نے وضاحت کی تو ڈاکٹر آسیہ نے مسکرا کر کہا "کوئی بات نہیں ابھی میرے پاس کچھ وقت ہے آپ کو جو پوچھنا ہے جلدی جلدی پوچھ لیں"انہوں نے چہرے سے نقاب ہٹاکر پسینہ صاف کیا اور پانی کا گلاس منہ سے لگالیا"ماشاءاللہ کتنا نورانی چہرہ ہے۔میں نے دل ہی دل میں ان کی خوبصورتی کو سراہا"اور سوالات کا پرچہ ہاتھ میں تھام لیا۔
"میم آپ نے بچوں کا شعبہ ہی کیوں منتخب کیا اور آپ کب سے یہاں اپنی خدمات انجام دےری ہیں؟میں نے جلدی سےایک ساتھ دو سوال کرڈالے "مجھے شروع سے ہی بچے بہت پسند ہیں اور میں نے بچوں کی نفسیات بھی پڑھی ہوئی ہے۔ اس لئے شعبہ اطفال منتخب کیا اور میں تقریباً چار سال سے اس اسپتال سے منسلک ہوں۔
" آپ کب سے پردہ کررہی ہیں اورآپ کو کوئی دِقت نہیں ہوتی،اتنےگھنٹے کی ڈیوٹی کرتی ہیں آپ؟"اس سوال پر وہ مسکراکربولیں" میری ماں کا تو بس نہیں چلتا تھا کہ بچپن سے ہی پردہ کرانا شروع کردیں، وہ اس معاملے میں بہت محتاط تھیں ، اسکول بھی چادر اوڑھا کر بھیجتیں ،کالج میں آئی تو عبائے کے ساتھ حجاب لینا شروع کردیا۔
"میم آپکی سہیلیاں بھی اسی طرح جاتی تھیں"ایک جونئیر ڈاکٹر نے بھی سوال کیا "نہیں، وہ تو تھوڑابہت تیار بھی ہوجاتی تھیں بلکہ مجھے تیل کی دکان کہہ کر چھیڑتی تھیں پھر باقاعدہ شرعی پردہ شروع کردیا اور اب تو اتنی عادت ہوگئی ہے کہ ڈیوٹی کے دوران بھی مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا ،اب جبکہ میں خود ایک بیٹی کی ماں ہوں اور اب وہ بڑی ہورہی ہے تو میرا دل چاہتا ہے اسے زمانے کی میلی نظروں سے چھپاکر رکھوں۔ اب مجھے اپنی ماں کی سوچ اور فکر صحیح لگتی ہے "
"آپ کے پاس پردے کے حوالے سے کتابچےہیں انکا کیا کرتی ہیں ؟" میں پڑھ کر آنےوالی خواتین میں تقسیم کردیتی ہوں۔"میم ہم بھی آپ کی طرح بننا چاہتے ہیں۔ ہماری رہنمائی فرمائیں "ایک اور جونئیر ڈاکٹر نے ڈاکٹر آسیہ سے متاثر ہوکر خواہش ظاہر کی۔
"یہ تو بہت اچھی بات ہےمیری خوش نصیبی ہوگی اگر میں آپ کے کسی کام آسکوں۔پہلی بات تو یہ کہ پردہ نہ تعلیم حاصل کرنے سے روکتا ہے نہ کوئی پیشہ اختیار کرنے سے بلکہ پردہ تو عورت کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔اس میں اعتماد پیدا کرتا ہے۔ میری مثال آپ کے سامنے ہے۔ اور مسلمان کی اصل متاع شرم وحیا ہی تو ہے۔
"آپ کوئی پیغام دینا چاہیں گی"وقت کی کمی کے باعث میں نےآخری سوال کیا۔"جی ہاں بالکل!آجکل جس طرح کا ماحول اور حالات ہیں اس میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے بچیاں ستر پوشی کا خیال رکھ کر گھروں سے نکلیں۔
حیا مومن کی قیمتی دولت ہے جسے چرانے کے لئے شیطان ہردم اسکے پیچھے لگا رہتا ہے,اگر واقعی ہمارے اندر برائی سے نفرت اور بھلائی کرنےکا جذبہ موجود ہےتو ہمیں دنیا اور آخرت کی کامیابی کے لئے ان احکام پر عمل کرنا ہوگا جو اللہ نے ہمیں دیے ہیں۔
آخر میں ڈاکٹر آسیہ نے سب جو ئیرز پر نظر ڈال کر مسکراتے ہوئے کہا "آج کے دور میں یہ گیٹ اپ ہمارا محافظ بھی تو ہے"۔
"ڈاکٹر ایک ایمر جنسی کیس ہے "نرس کے بلانے پر ڈاکٹر آسیہ فورآ اٹھ کھڑی ہوئیں اور جاتے ہوئے بس اتنا کہا کہ "اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ اللہ کو خوش کریں یا شیطان کو۔
ڈاکٹر آسیہ کی شخصیت اور باتوں نےجونئیر ڈاکٹرزمیں ایسی مثبت سوچ اور تبدیلی پیداکی کہ اگلے دن اکثر نے سر ڈھکے ہوئے تھے اور کچھ حجاب کرنے کی نیت کرتے ہوئے اللہ سے مدد مانگ رہی تھیں۔





































