
نگہت پروین
انسانی زندگی کےلیے مال اوردولت ضروری ہے،یہ وسائل ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: حدیث کا مفہوم ہےممکن ہے کہ مال نہ ہونے کی
وجہ سے غربت اس حال کو پہنچے کہ اس کے رد عمل کے طور پرانسان کو مایوسی ہواور وہ اس کی دلدل میں پہنچ جائے اوراس حد تک کہ وہ کفارکی طرف راغب ہو جائے۔ انسان اپنی محنت اور کا سب سے مال حلال حاصل کرسکتا ہے ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے پاکیزہ رزق وہ ہے جو اپنے ہاتھوں سےکماتے ہو اورحصول رزق کا بہترین ذریعہ تجارت ہے ۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا :سچے اورامانت دار تاجر کا انجام انبیاءاورشہداء کےساتھ ہوگا۔ انسان محنت کر کےمال کمائے اورانفاق کرے ،
کسب ماش اورحصول کے چار ذرائع ہیں۔
محنت اور کسب
اپنے ہاتھ سے محنت کرنا جیسے کوئی ہنرآتا ہواور اس کے ذریعے سے کمائی کرنامثلا درزی، موچی،انجینیئر وغیرہ وغیرہ
مرابہا
کوئی شخص ہول سیل مارکیٹ سےمال خرید کر 10 یا 20 روپےزیادہ لیتا ہےیہ جائز ہےحلال ہے۔
مضاربت
کسی شخص کے پاس مال موجود ہےمگر کوئی طریقہ اورہنر نہیں جانتامگردوسرے کےپاس مال نہیں مگروہ صلاحیت رکھتا ہے اور ہنرجانتا ہے اور اس مال کو بڑھا سکتا ہےتومنافع دونوں کو برابرحصےکاملےگامگر نقصان کی صورت میں خسارہ مال والے کو ہوگا اور دوسرے کی صرف محنت ضائع ہوگی
مصارفت
مال بھی ہے اور ہنر بھی ہے دو اشخاص مل کر کام کریں گے تو نفع و نقصان میں برابر کے شریک ہوں گے ۔
یہ تجارت کے زرین اصول نظام معیشت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تعلیمات میں سے امت کے لیے ہیں ۔
سود
قرض پر نفع حاصل کیا جائے جو روپے کی صورت میں بھی ہو سکتا یا پھر کسی چیز کی صورت میں بھی جیسے 100 روپے دیے اور 130 روپے لیے یہ قرض میں سود ہے اللہ نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام کہا ایک شخص نے قرض دیا اور کہا کہ مکان یا گاڑی میں اس وقت تک استعمال کروں گا جب تک تم قرض واپس کرو یہ صورت حرام ہے جنس بدل جائے تو کمی بیشی کے ساتھ جائز نہیں بلکہ حرام ہے اس کی ممانعت قران میں ہے سورہ بقرہ اور ال عمران میں ہے
حدیث کا مفہوم ہے۔ سود لینے والے ،گواہ،لکھنے والے سب گناہ گار ہیں۔ سودی لین دین میں یہ سب حرام کام کے موجب ہوں گے سود سے جو مال حاصل ہوگا اس سے اسائش نہیں ملے گی بلکہ ذلت اور رسوائی ملے گی ۔
ارتکاز دولت
اس کو اسلام پسند نہیں کرتا کہ دولت اکٹھا ہو جائے اسی لیے اسلام نے انفاق اور زکوۃ کا حکم دیا ہے سود میں دولت اکٹھا ہوتی ہے کسی ایک کے پاس مال جمع ہو رہا ہوتا ہے اور دوسرا غریب تر ہو رہا ہوتا ہے اسی لیے سود کو حرام قرار دیا اج معاشرے میں یہی نظام ہے کہ جوا اور سٹہ،حرام ہے جس میں ایک مالدار اور دوسرا غریب ہو جاتا ہے اور اس سے شقاوت قلبی پیدا ہوتی ہے۔
وراثت کا مال جو حصہ اللہ نے قران میں مقرر کر دیا شریعت کےذریعے سے وہ حاصل کرنا حلال ہے ۔خرچ میں اسراف اور بخل نہیں ہونا چاہیے اعتدال بہت ضروری ہے رسول اکرم نے فرمایا مال اعتدال سے استعمال کرنا چاہیے۔ یہ نبوت کا 24 واں حصہ ہے اور سادگی بھی اختیار کرنی چاہیے شیطان کے بھائی وہ ہیں جو مال کو فضول خرچی سے استعمال کریں بہت اور کنجوس سی قران یہ بھی نہیں پسند کیا سادگی اور قناعت یعنی غیر ضروری خواہشات سے رکا جائے اور سادگی کو اپنایا جائے حرص اور لالچ قناعت اور سادگی کی ضد ہے ۔ مال جمع کرنے کی زبردست خواہش کو حدیث سے واضح کیا کہ اس کو ایک سونے کا پہاڑ دیا جائے وہ اس سے بھی مطمئن نہ ہوگا ۔دوسرا اور تیسرا پہاڑ یہاں تک کہ قبر ہی اس کا پیٹ بھرے گی اور اس کی مثال قرآن میں
سورہ تکاثرمیں موجود ہے اللہ تعالی فرماتا ہے کہ تمہیں مال کی کثرت نے قبر کے گڑھے تک پہنچا دیا ۔




































