
تالیف وتلحیص:عظمیٰ پروین
فلسطینی جدوجہدآزادی نےہمارےزمانےکےلیےایک فرقان کبیرکی حیثیت اختیارکرلی ہے۔اس مزاحمت نےمغربی مقتدرہ کےچہرےسےحقوق
انسانی،آزادی،مساوات اورجمہوریت کادلکش اورحسین ماسک اتارپھینکاہےجس نےدنیاکےبہت بڑےحصےکواپناغلام سمجھتےہوئے ان کےوسائل پرجبری قبضہ کررکھا ہے،مسلم دنیااپناپیغام اورمقصدزندگی بھول کران کی مطیع فرماں بنی ہوئی ہے۔
یہ دنیاشکارگاہ بن چکی ہے،شکاری ہتھیارلےکر قوموں کوپامال کرتےہیں۔بڑی طاقتیں مشرقی اقوام سےکچامال اورپٹرول حاصل کرتی ہیں۔ مفاداتی جنگوں میں انہیں استعمال کرناچاہتی ہیں۔یہ گویا ان کےباورچی خانےکاایندھن ہیں۔فلسطینی ان وحشیوں کاایندھن بننےسےانکارکررہےہیں اور تیسری دنیاکوایندھن بنانےکےعمل میں رکاوٹ بن رہےہیں۔یہ دنیاکی کمزوراقوام کےنجات دھندہ ہیں اورساراعالم انسانیت انکامقروض ہے۔
صہیونی بدترین نسل پرست گروہ
مغربی مقتدرہ انسانی برابری کی علمبرداربنی پھرتی ہےلیکن فلسطینی مزاحمت نےواضح کردیاکہ دنیا میں سب سےبڑانسل پرست گروہ صہیونیت اور اسکےحامی ہیں۔نسل پرستی اسرائیل کےوجودکی اساس ہے۔یہ واحدملک ہےجونسل کی بنیادپرقانون بناتااوراپنےشہریوں میں تفریق کرتاہے۔اسرائیل کی ساری مکاریوں کااصل ہدف اشکی نازیوں کےمفادات کاتحفظ ہے۔پرخطرمہمات میں کم نسل یہودیوں کو آگے رکھا جاتاہے۔ان سےشادی بیاہ معیوب اوراسکولوں تک میں ان کی نشستیں الگ ہیں۔
درجہ اول میں اشکی نازی یہودی،درجہ دوم میں دیگریہودی،درجہ سوم میں اسرائیل کی حدود میں رہنےوالےعرب اورآخری درجےمیں مغربی کنارےاور غزہ کےمسلمان ہیں۔قوانین ایسےبنائے گئے ہیں کہ فلسطینیوں کی زندگیاں اجیرن ہوکررہ گئیں۔ فلسطینیوں کودوچھوٹےاورعلیحدہ حصوں میں تقسیم کردیاگیاہے۔قدم قدم پرچیک پوائنٹس نے بیشترحصوں میں ان کی نقل وحرکت کوناممکن بنادیا ہے۔دوسال قبل عالمی ادارےہیومن رائٹس واچ نے خصوصی رپورٹ جاری کرکےاعلان کیاکہ اسرائیل نےساری حدیں پارکردی ہیں وہ واضح طورپرنسل پرستی کامجرم ہے۔
امریکاوبرطانیہ کی حکومتیں اسرائیل کی سب سےبڑی حمایتی اورپشت پناہ ہیں حاانکہ ان ہی لوگوں نےنازی جرمنی کی سیاسی اورفوجی قیادت کےخلاف اس کی نسل پرستی کی بنیادپرسخت ترین سزائیں نافذکیں اورآج اسرائیل کی بدترین نسل پرستی میں برابرکی شریک ہیں۔
بےمثل سفاکی کی چندجھلکیاں
انیس سو اڑتالیس میں فلس طین کےبہت سےدیہات اور شہروں کوقتل عام کےذریعےحالی کرایاگیااورنصف آبادی دربدرہوگئی۔قتل عام کےسلسلےبعدمیں بھی برابرجاری رہے۔ایمنسٹی کی رپورٹ کےمطابق اسرائیل نے1967 کی جنگ کےبعدفلسطینیوں کی ایک لاکھ ہیکٹرسےزیادہ زمین ہتھیالی۔2023میں غزہ کےقتل عام نےسارےریکارڈتوڑدیے۔زمانےنےکیاکیادیکھا۔ گھروں کوبغیرپیشگی اطلاع کے بلڈوزروں سے مسمارکرنااورآبادیوں میں پانی کی فراہمی روک دینا،عام شہریوں عورتوں اوربچوں تک کابےدردی سےقتل عام، آبادیوں،بازاروں،اسکولوں ہسپتالوں اور مساجدتک پروحشیانہ بمباری جس کی کوئی نظیر جنگ عظیم دوم میں بھی نہیں ملتی۔عورتوں اور بچوں سمیت بےقصورلوگوں کی مہینوں اوربرسوں تک بلاجوازگرفتاریاںاور قیدخانوں میں بدترین مظالم۔
جھوٹا رعب ودبدبہ
فلسطین کی مزاحمتی جدوجہدکاسب سےبڑا کارنامہ یہ ہےکہ اس نےاسرائیل کی جھوٹی قوت وطاقت اورناقابل تسحیرہونےکاجھوٹا دعویٰ بری طرح بے نقاب کردیا۔سازشی نظریات شرپسندوں اورفتنہ پردازوں کوبہت طاقتوراورغیرمعمولی قوت و صلاحیت کےحامل باورکراتےہیں تاکہ انہیں قادرمطلق اورعالم کل سمجھاجائےاوردنیاپریہ ظاہر کیاجاتاہےکہ ہرچھوٹےبڑےمعاملےپران کی گرفت بہت مضبوط ہے۔یوں مایوسی فروغ پاتی ہےاورلوگ آزادی وخودمختاری کی جدوجہدکاسوچ بھی نہیں سکتے۔ فلسطینی مزاحمت نےاس بزدلانہ تصورات کی جڑ کاٹ دی ہےاوردنیاپرواضح کردیاہےکہ اسرائیل کو بڑی طاقت اورناقابل تسخیرسمجھناکم فہمی ہے۔اسرائیل کی پشت پرامریکا اوریورپ کی بڑی طاقتیں ہیں جواسے مالی،عسکری،سفارتی،سیاسی، ذہنی اورنفسیاتی غرض ہرمیدان میں سپورٹ کرتی ہیں۔اسرئیل کےمظالم کےخلاف اقوام متحدہ میں قانون سازی کاآغازہوتویہ طاقتیں ویٹوکردیتی ہیں۔عالمی قانون ان کےلیےمحض اپنےمفادات کی تکمیل کاذریعہ ہے۔جہاں وہ مفادمیں رکاوٹ بنااسکونہایت بے شرمی اورڈھٹائی سےپامال کردیا۔یہ لیڈرعوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنےکےلیےوقتافوقتاسابقہ جراءںم کی معافی بھی مانگتےرہتےہیں۔
عالمی بےداری اورمسلمان
اس بےمثال مزاحمت کےباعث عالمی رائے عامہ اسرائیل کےخلاف اورفلسطین کےحق میں بیدار ہورہی ہے۔اہل مغرب کوان کی حکومتوں نےمیڈیااور جھوٹے پروپیگنڈےکےذریعےغافل کررکھاتھا،اب ان کی آنکھیں کچھ کھلیں ہیں توحال یہ ہےکہ مسلمان ممالک سےبڑھ کروہاں اسرائیلی مظالم کےخلاف مظاہرےہورہےہیں۔ان کےسربرہان کواپنےممالک میں شدیدمزاحمت درپیش ہے۔عوامی دباؤکےباعث ہی ا سپین،فرانس اورکنیڈاکےحکمرانوں کواسرائیل کے خلاف بیان بازی کرنا پڑرہی ہے۔اب یہ مسلم امہ کی ذمہ داری ہےکہ عالمی بیداری سےمستفیدہوکرحکمت ودانش سےدین اسلام کے پھیلاؤ کی ہرممکن کوشش کریں جودنیاکوحقیقی امن وسلامتی سےہمکنارکرسکتاہے۔
حاصل مطالعہ :سیدسعادت اللہ حسینی (ہفت روزہ ایشیا۵ستمبر ٢٠٢۴) فلسطین نمبر




































