
نگہت پروین / کراچی
اطہر یار مبارک ہوتم میٹرک میں اول آئے ہو۔۔ ارحم یار تمہیں بھی مبارک ہو تم بھی تو سوم آئےہواورسارے دوستوں سے مبارکباد وصول کر کے اب ہر کوئی
خوش خوش گھر آیا ۔ امی۔۔۔ امی میں کلاس میں اول ایا ہوں۔ بھئی واہ۔۔۔ مبارک ہو۔۔۔ امی نے کہا اورکہا کہ بیٹا میری میٹنگ ہے۔ دیرہو گئی ہے۔ اچھا میں جا رہی ہوں ۔
ابو کو فون کیا دبئی میں۔۔۔ اول آیا ہوں کلاس میں تو ابو نے کہا ویری گڈ بیٹامگر بولے بیٹا میں ذرا سائٹ پر کام میں مصروف ہوں بعد میں بات کرتا ہوں۔ حرمین اور را مین دونوں بہنوں نے بھی رسمی مبارکباد دی ۔ اطہر بجھ کر رہ گیا اور سوچتا رہ گیا کہ مجھے کسی نے پیار بھی نہیں کیا ۔ کسی نے دل جوئی نہیں کی۔ کسی نے کوئی تحفہ نہیں دیا ۔ کیا کوئی میری کامیابی پر خوش نہیں ؟
عصر کی نماز کے بعد مسجد سے نکلتے ہوئے ارحم نے کہا چلو دوست تم نے تو مجھےمٹھائی نہیں کھلائی میں تمہیں مٹھائی کھلاتا ہوں میرے گھر چلو۔
جب اطہر ارحم کے گھر گیا تو اس کی امی نے اس کا ماتھا چوما اور کہا۔۔۔ بھئی کلاس میں اول آنا بڑے اعزاز کی بات ہے جب محنت کی جاتی ہے تو نتیجہ بھی ایسا ہی ملتا ہے ۔ شاباش امید ہے کہ ٓائندہ بھی تم ایسی ہی کامیابی کو قائم رکھو گے اور اس کی بہن بینا باجی نے بھی اسے ایک چھوٹا سا پیکٹ بطور تحفہ دیا تو اس نے کہا اس کی کیا ضرورت ہے تو بینا بہن نے کہا میں نے ایسا ہی تحفہ ارحم کو بھی دیا ہے تم دونوں نے بڑی محنت کی تھی یہ تو تمہارا حق ہے۔
ارحم اطہر کو لے کر کھانے کی میز پر آیا اور کہا تم بیٹھو میں مٹھائی اور چائےلاتا ہوں ۔اطہر بیٹھا ادھر ادھرایسےہی نگاہیں دوڑا رہا تھا ۔۔۔ اس کی نظر ایک فریم پر پڑی جس میں ارحم کے گھر والوں کی ایک ساتھ تصویر تھی۔ سب مسکرا رہے تھے وہ سوچنے لگا کہ یہ سب گھر والے کتنی محبت سے مل جل کر رہتے ہیں ۔ وہ سوچنے لگا کہ کاش امی مجھے گلے لگا کر پیار کرتیں اور کہتیں میرا بیٹا کتنا ذہین ہے۔۔ اپنے سینے سے لگا لیتیں۔۔ ابو نے بھی کام کا بہانہ کیا ۔۔میری کامیابی پر میرا حوصلہ نہیں بڑھایا ۔ نہ مستقبل کے متعلق کوئی مشورہ دیا۔
بھائی بہن مٹھائی منگاتے اور مجھے کھلاتے اور خوشی کا ایک سماں بنتا۔ میں بھی اپنی کامیابی پر خوش ہوتا۔ میری بہنیں مجھے چھوٹا سا تحفہ تو دے سکتی تھیں ۔ اصل میں ساری بات تو ایک دوسرے کا احساس کرنے کی ہے۔ ایک دوسرے کے جذبے کی تعریف کرنے کی اور کامیابی پر خوش ہو کر تحائف دینے سے محبت بھی بڑھتی ہے اور خوشیاں بھی بڑھتی ہیں ۔ پیار محبت کے تعلقات ہوں تو خاندان کی صورت میں ہر فرد سکون پاتا ہے۔ مضبوط خاندان کی یہی خوبی ہوتی ہے ورنہ ہر ایک الگ الگ ہو تو کوئی ایک دوسرے کے لیے یہ نہیں سوچتا۔




































