
نگہت پروین
گلوبل صمود فلوٹیلا امن اورانصاف اورانسانیت کا درد رکھنے والوں کا قافلہ تھا اوریہ غزہ کےبھوکے پیاسےشہریوں کےلیےسامان زیست لے کر
جا رہا تھا اور قانونی حدود میں سفر کر رہےتھےمگراسر ائیل نے بےرحمانہ ، ظالمانہ اورمجرمانہ حملے شروع کیےاوراس قافلےکومنزل مقصود تک نہیں پہنچنے دیا ۔اس قافلے میں 45 کشتیوں میں سوار دنیا بھر کے 500 انسانی حقوق کے کارکن موجود تھے ،جو عالمی قوانین کے مطابق غزہ پہنچنا چاہتے تھے اور مظلوم فلسطینیوں کیلئے بڑی مقدار میں امدادی سامان لے کر گئے تھے ۔
اسر ائیل مسلسل دہشت گردی کامظاہرہ کررہا ہےاوراقوام متحدہ سمیت اوآئی سی اورانسانی حقوق کےادارےخاموش کیوں بیٹھے ہیں ؟
امریکہ کے صدر ٹرمپ امن کا نوبل انعام کے حق دار ٹھہرے مگر وہ کام تو امن کو تار تار کرنےغزہ کےشہریوں کوبھوکا پیاسا شہید کرنے اور ان کے املاک کو تباہ و برباد کرنے والے کام کر رہے ہیں۔
عالمی برادری خصوصاًمسلم برادری سب یک زبان ہوکرامریکاسمیت اقوام متحدہ اورامن قائم کرنےوالےاداروں کو چاہیےکہ اسرائیل کو اس غیر قانونی اور مجرمانہ حملوں سے روکیں فلسطینیوں کےحق کے لیے میدان میں نکلیں اور ان کے لیے آواز بلند کریں اوعرانہیں حقیقی آزاد ریاست دلوائیں تاکہ وہ امن اور سکون کے ساتھ ،آزادی کےساتھ زندگی گزار سکیں ۔ہم صمود فلوٹیلا پرسفاکانہ حملے اور لوگوں کے اغوا کی شدید مذمت کرتے ہیں۔




































