
نگہت پروین
یہ جانثاروں اور جانبازوں کا وہ قافلہ ہے جو اللہ پر توکل کر کے سے سسکتی انسانیت اور بھوکے پیاسےمعصوم بچے بوڑھے اور بڑوں سب کے
لیے غزہ کی طرف رکیا اور بالآخر صہیونیوں نے ان پر دھاوا بول کر انہیں اغوا کرلیا ،سوسے زائد ترک باشندے رہائی پا چکے ہیں ۔الحمد اللہ ہمارے دین کا سبق تو یہ ہے کہ کسی ایک انسان کو تکلیف ہو تو تمام انسانیت اسے محسوس کرے مگر اقتدار کے نشے میں چور افراد بے رحم اوربے حس بنے ہوئے ہیں ، سوائے تقاریر کے اور تصاویر کے کچھ نہ کرسکے، مگر ایسے میں اللہ نے تو کہا ہے کہ تم نہ اٹھو گے تو وہ دوسرے کو اٹھا کر کھڑا کر دے گا ۔
اس وقت گلوبل صمود فلوٹیلا کا تحفظ ہرمسلمان حکمران اورمسلمان حکومت لازم تھا ،سابق پاکستانی سینیٹر مشتاق احمد صاحب کے سوشل میڈیا پر کلپ دیکھ کر ان کے اور قافلے میں شامل تمام مجاہدین کے ایمان اور استقامت ،جوش ، جذبے اور محبت کا احساس ہوا اللہ تعالیٰ سے اس قافلے کی حفاظت کی دعائیں کیں ،مگر ظالم صہیونیوں نے 45 سے زائد کشتیوں پر دھا وا بول کر 500 کے قریب دنیا بھر سے آئے انسانی حقوق کے کارکنوں کو اغوا کرلیا ۔
اسرائیل کی قیدی میں اب بھی 400 کے قریب باشندے ہیں جن میں مشتاق احمد صاحب بھی شامل ہیں۔ان پر اسرائیلی جیلوں میں ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں ۔فلوٹیلا کے مسافر اسرائیلی حراست سے واپسی پر بتا رہے ہیں ان پر بدترین مظالم ڈھائی گئے ،انہیں چھوٹی سے جیل میں جانوروں کے ساتھ رکھا گیا ،نماز پڑھنے نہیں دی گئی ۔سویڈش سماجی کارکن گریٹا تھنبرگ کو گھسیٹا گیا ،اس پر تشدد کیا اور اسے اسرائیلی پرچم چومنے پر مجبور کیا گیا ۔رہائی پانے والوں نے میڈیا کو بتا یا جہ جب انہوں نے ہم پر ظلم کیا تو فلسطینیوں پر کیا کیا ظلم نہیں کرتے ہوں گے ۔
یہ ہے اسرائیل کا اصل چہرہ ، پھر بھی مسلم حکمران خاموش تماشائی ہیں ۔ مسلم حکمرانوں غفلت سے بیدار ہو جاؤ ،یہ خاموشی خود غرضی ہے، یہ خاموشی اور چاپلوسی تمہیں اپنی مسلمانیت کے درجے سے گرا رہی ہے، ہوش کے ناخن لیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی امت ہونے کے فرض کو پہچانو ۔
اسرائیل غاصب ہے ،ظالم ہے مگر آج چپ رہ کر جس نے بھی اس کا ساتھ دیا، وہ بھی اللہ کے نزدیک غاصب اورظالم ہے ۔آ ج یورپی ممالک یعنی غیر مسلم بھی غزہ اور فلسطین کے لیے میدان میں نکل کر مظاہرے کر رہے ہیں۔ تف ہے مسلم حکمرانوں پر اور افسوس ہے کہ آج ان کا کردار قابل شرم ہے مگر احساس تک نہیں کہ آخرت میں کیا جواب دیں گے ۔




































